.

اپوزیشن رہنماوں کی نظر بندی پر رفسنجانی کی مرشد اعلیٰ کو وارننگ

موسوی اور کروبی کی مزید قید تہران کی بدنامی کا موجب بن سکتی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسلامی جمہوریہ ایران کی گارڈین کونسل کے چیئرمین اور سابق صدرعلی اکبر ہاشمی رفسنجانی نے ایک مرتبہ پھر سپریم لیڈر اور رہبرِانقلاب اسلامی آیت اللہ خامنہ ای کو اصلاح پسند رہ نماؤں مہدی کروبی اور میر حسین موسوی کی نظر بندی کے سنگین نتائج کے بارے میں متنبہ کیا ہے۔ سابق صدر کا کہنا ہے کہ میں نے مرشد اعلیٰ پر واضح کیا ہے کہ اپوزیشن رہنماؤں کی گھروں پر جبری نظربندی مزید قابل قبول نہیں ہوسکتی۔ انہیں فوری طور پر رہا کیا جائے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سابق صدر رفسنجانی نے نظر بند رہ نماؤں مہدی کروبی اور میر حسین موسوی کے اہل خانہ سے ملاقات کے دوران بتایا کہ انہوں نے مرشد اعلیٰ خامنہ ای کو ایک مراسلے میں تحریری طور پر خبردار کیا ہے کہ اپوزیشن رہ نماؤں کی مسلسل نظر بندی ملک وقوم کے مفاد میں نہیں ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق مہدی کروبی کے فرزند محمد حسین کروبی نے سابق صدرسے ملاقات کی تفصیلات سماجی رابطے کی ویب سائٹ "فیس بک"پر شائع کی ہیں۔ سابق صدر نے خامنہ ای کو لکھے مراسلے میں لکھا ہے کہ میں نے نظر بند رہ نماؤں مہدی کروبی اور میر حسین موسوی سے ملاقات کی ہے۔ دونوں رہ نما طویل نظربندی کے باعث کئی قسم کی مشکلات کا شکار ہیں۔ ان کی صحت بھی مسلسل بگڑتی جا رہی ہے۔

ایسے میں اپوزیشن رہ نماؤں کوحراست میں رکھنا یا انہیں گھروں میں قیدکرنا ایران کے اسلامی جمہوری آئین اور نظام کے خلاف ہے۔ اگرجبری نظر بندی کے دوران دونوں اپوزیشن رہ نماؤ کوکوئی نقصان پہنچ گیا تو یہ ہمیشہ کے لیے ایران کے اسلامی نظام کی پیشانی پر کلنک کاٹیکہ ثابت ہو گا۔ ملک و قوم کےمفاد کو پیش نظر رکھتے ہوئے دونوں بزرگ سیاست دانوں کی نظربندی فوری ختم کی جائے"۔

درایں اثناء نظر بند رہ نما میرحسین موسوی کی دو صاحبزادیوں نے علی اکبر ہاشمی رفسنجانی سے ملاقات میں بتایا کہ پچیس اکتوبرکو وہ تہران کے ریسٹ ہاؤس میں اپنے والد سے ملنے گئیں لیکن سیکیورٹی حکام نے ان کے ساتھ نازیبا سلوک کیا۔ ہمیں جامہ تلاشی کے لیے کہا گیا، جب ہم نے انکار کیا تو ہمیں مارا پیٹا گیا۔

مہدی کروبی کے فرزند حسین کروبی کا کہنا ہے کہ ان کے نظر بند والد کو ہڈیوں کی تکلیف ہے جس کے باعث وہ چلنے کی سکت بھی نہیں رکھتے ہیں۔ انہوں نے سابق صدرعلی اکبر ہاشمی رفسنجانی سے کہا ہے کہ وہ مہدی کروبی کوعلاج کے لیےاسپتال منتقلی کی سفارش کریں۔ نیز ان کے خاندان کو نظر بند رہ نماؤں کی دیکھ بحال کاموقع دیا جائے۔

خیال رہے کہ ایران میں سنہ 2009ء کے صدارتی انتخابات کے بعد اصلاح پسند رہ نماؤں نے انتخابی نتائج مسترد کرتے ہوئے ملک گیر احتجاجی تحریک شروع کردی تھی۔ احتجاجی تحریک میں شرکت کی پاداش میں حکومت نے دو مرکزی رہ نماؤں مہدی کروبی اور میر حسین موسوی سمیت ہزاروں افراد کو حراست میں لے لیا تھا۔ بعد ازاں فروری 2010ء کو کروبی اور موسوی کو گھروں میں نظربند کردیا گیا۔

رواں سال ہونے والے صدارتی انتخابات بالخصوص اصلاح پسند رہ نماء ڈاکٹر حسن روحانی کے صدر منتخب ہونے کے بعد نظر بند رہ نماؤں کی رہائی کی توقع کی جا رہی تھی تاہم موجودہ صدر بھی ان کی رہائی کے لیے کوئی فیصلہ نہیں کرسکے ہیں۔