.

ایران افغان مہاجرین کو زبردستی بے دخل کررہا ہے:ہیومن رائٹس واچ

عالمی تنظیم کا ایران میں مقیم افغان مہاجرین سے ناروا سلوک بند کرنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے کہا ہے کہ ایران ہزاروں افغان مہاجرین کو زبردستی نکال رہا ہے اور اس طرح وہ مہاجرین کے تحفظ سے متعلق اپنی بین الاقوامی ذمے داری کی خلاف ورزی کا مرتکب ہورہا ہے۔

ہیومن رائٹس واچ نے ایران سے زبردستی بے دخل کیے جانے والے افغانوں کے بیانات پر مبنی ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں ان مہاجرین کی بڑی ہولناک کہانیاں سامنے آئی ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خاندان کے سربراہ باپوں کو زبردستی پکڑ کر ایران بدر کردیا گیا اور انھیں اس بات کا بھی موقع نہیں دیا گیا کہ وہ پیچھے رہ جانے والے اپنے خاندانوں کو اس کی اطلاع دے سکیں۔

یادرہے کہ 1980ء کے عشرے میں سوویت روس کی افغانستان پر چڑھائی کے بعد لاکھوں افغان اپنا گھر بار چھوڑ کر پاکستان اور ایران اٹھ آئے تھے۔جنگ کے عروج کے دنوں میں پاکستان میں قریباً پچاس لاکھ افغان مہاجرین رہ رہے تھے اور ایران میں چالیس لاکھ کے لگ بھگ افغان مہاجرین موجود تھے۔

ہیومن رائٹس واچ کے تخمینے کے مطابق اس وقت ایران میں قریباً بیس لاکھ افغان غیر رجسٹرڈ مہاجرین کے طور پر رہ رہے ہیں۔ان میں سے بعض افغانستان واپس آگئے تھے لیکن جنگ زدہ ملک میں روزگار کے ذرائع نہ ہونے اور بدامنی کی وجہ سے وہ دوبارہ ایران لوٹ گئے۔

لیکن ایران نے دوبارہ واپس آنے والے ان افغانوں کی اکثریت کو رجسٹر کرنے سے انکار کردیا تھا۔تنظیم کے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے لیے محقق فراز سانعی کا کہنا ہے کہ مذکورہ تعداد کے علاوہ ایران میں آٹھ لاکھ چالیس ہزار رجسٹرڈ مہاجرین رہ رہے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ رپورٹ کے مصنفین نے افغانستان کی ایران کے ساتھ واقع مغربی سرحد پر ایک سال سے زیادہ کا عرصہ گزارا ہے اور انھوں نے ایران سے افغانستان کی جانب دھکیلے جانے والے مہاجرین کے انٹرویوز کیے تھے جن میں انھوں نے ایرانی حکام کے ناروا سلوک اور تشدد کی ہولناک کہانیاں بیان کی ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایرانی حکام کی کارروائیوں کے نتیجے میں افغان خاندان بٹ کررہ گئے ہیں۔اس میں دو کم سن لڑکیوں کی ایران کے مقدس خیال کیے جانے والے شہر قُم سے گرفتاری کا واقعہ بیان کیا گیا ہے۔وجہ اس کی یہ بنی کہ ان میں سے ایک کا والد اور دوسری کا سرپرست ان کی مدد کو آئے تو ان میں سے ایک نے عنابی رنگ کی کپڑے والی چپل پہن رکھی تھی۔پھر کیا ہوا،ایرانی پولیس نے ان چاروں کو گرفتار کرکے ملک بدر کردیا مگر ان کی ماں اپنے تین دوسرے بچوں کے ساتھ ایران ہی میں رہ گئی۔

سانعی نے افغان دارالحکومت کابل میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''ہمارے لیے تشویش کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ایران سے جب غیر رجسٹر افغان مہاجرین کو ملک بدر کیا جاتا ہے تو اس تمام عمل کے دوران ان کے ساتھ بہت ہی ناروا سلوک کیا جاتا ہے اور ایک مرتبہ افغانستان آکر واپس ایران جانے والوں کے مسائل اس طرح دوچند ہوجاتے ہیں''۔

رپورٹ میں ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ والدین کے بغیر بچوں کے مراکز قائم کرے،بے دخل کیے جانے والے افغانوں کو زیادہ امداد مہیا کرے اور افغان مہاجرین اور تارکین وطن کے ساتھ ناروا سلوک کا سلسلہ بند کرے۔فوری طور پر ایرانی حکومت نے اس رپورٹ پر اپنا کوئی تبصرہ نہیں کیا اور وہ بالعموم کم ہی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق رپورٹس پر تبصرے کرتی ہے۔

افغانستان میں تشدد کے واقعات

درایں اثناء افغانستان میں تشدد کا سلسلہ جاری ہے اور جنوبی شہر قندھار میں ایک ریستوراں میں بم دھماکے کے نتیجے میں تین افراد ہلاک اور چودہ زخمی ہوگئے ہیں۔

صوبائی گورنر کے ترجمان جاوید فیصل نے بم دھماکے میں ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی تحقیقات شروع کردی گئی ہے۔تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوا کہ یہ خود کش بم حملہ تھا یا بم ریستوراں میں کسی جگہ نصب کیا گیا تھا۔ کسی گروپ نے اس بم دھماکے کی ذمے داری قبول نہیں کی۔

ادھر قندھار کے پڑوس میں واقع ایک اور جنوبی صوبہ ہلمند کے ضلع مرجاہ کے پولیس سربراہ کو نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کرکے ہلاک کردیا ہے۔حملے میں پولیس سربراہ کا ایک محافظ زخمی ہوگیا ہے۔واضح رہے کہ یہ دونوں جنوبی صوبے طالبان مزاحمت کاروں کا گڑھ سمجھے جاتے ہیں اور وہ آئے دن افغان سکیورٹی فورسز یا غیر ملکی فوجوں پر حملے کرتے رہتے ہیں۔