.

سوئٹزرلینڈ بہترین فلاحی ریاست، باشندوں کا 2800 ڈالر وظیفہ مقرر

غیر مسلم ملک میں عدیم النظیر معاشی نظام رائج ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوئٹزرلینڈ صرف یورپ کی نہیں بلکہ کرہ ارض کی بہترین فلاحی ریاست بن گئی ہے جہاں تمام شہریوں کے لیے فی کس ماہانہ اٹھائیس سو ڈالر وظیفہ مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

حکومت کی جانب سے یہ وظیفہ تمام شعبہ ہائے زندگی کے افراد کو دیا جائے گا چاہے کوئی شخص امیر، یا غریب یا بر سر روزگا ہر ایک اس وظیفے کا یکساں مستحق ہو گا۔ اقدام کا مقصد شہریوں کو غربت سے محفو رکھتے ہوئے معاشی طور پر خوش حال بنانا ہے۔

اس فیصلے پرعمل درآمد کے بعد سوئٹزرلینڈ کرہ ارض کی واحد ایسی غیر مسلم فلاحی ریاست ہوگی جہاں شہریوں کا معیار زندگی بہتر بنانے کے لیے خلافت راشدہ کی مثال زندہ کی جائے گی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سوئٹزرلینڈ اگرچہ مسلمان ملک نہیں ہے لیکن حکومت نے شہریوں کے معاشی معیارزندگی کو بہتر بنانے اورغربت کے خاتمے کے لیے جو قدم اٹھایا ہے وہ دراصل اسلامی تعلیمات کا طرہ امتیاز رہا ہے۔ اس کی سب سے پہلی مثال آج سے 1425 سال پیشتر10 سنہ ھجری کو پہلے خلیفہ راشد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے رکھی۔ انہوں نے اسلامی ریاست کے تمام مرد و زن اور بچوں کے لیے سالانہ 10 درہم کا وظیفہ مقرر کیا جو انہیں ریاست کے بیت المال سے دیا جاتا تھا۔ یہ وظیفہ کی کم سے کم شرح تھی۔ بعض خاندانوں کی کفالت کے لیے وظیفہ کی مقدار کہیں زیادہ تھی۔

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی قائم کردہ اس روایت کو حضرت عمر بن خطاب، حضرت عثمان ابن عفان اور چوتھے خلیفہ حضرت علی ابن ابی طالب رضوان اللہ علیہم اجعمین نے بھی جاری رکھا۔ یوں حضرت ابو بکر کا قائم کردہ دس دہم وظیفہ کئی سال تک جاری رہا۔ خلاف بنو امیہ کے دوران اس کی مقدار بڑھا کرکم سےکم 20 درہم کر دی گئی۔ تا آنکہ سنہ 717ء بمطابق 87ھ کو اموی خلیفہ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے اسے صرف ضرورت مندوں کے لیے مخصوص کر دیا اور امیر لوگوں سے زکواۃ کی وصولی میں سختی شروع کر دی۔

سوئس حکومت نے حال ہی میں شہریوں کی معاشی ضروریات اور ان کے لیے ماہانہ وظیفہ مقرر کرنےکے لیے ایک عوامی سروے کرایا۔ ایک قانونی دستاویز پرعوام سے اس کی حمایت اور مخالفت میں رائے طلب کی گئی۔ ملک بھرسے ایک لاکھ 26 ہزار افراد نے دستخط ثبت کیے۔ ان میں کئی سابق وزراء اور اہم شخصیات کے دستخط بھی شامل ہیں۔ اس دستاویز میں کہا گیا کہ حکومت عوام کو غیر مشروط طور پر وظائف جاری کرے تاکہ شہریوں کو معاشی طور پر کسی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

یہاں یہ امر قابل ذکر رہے کہ سوئٹزرلینڈ میں باقاعدہ طور پر کسی بھی معاملے پر آئین سازی سے قبل ایک عوامی ریفرنڈم کرایا جاتا ہے۔ اگر سوا لاکھ افراد میں ایک لاکھ رائے دہندگان اس کی حمایت کریں تواسے نافذ العمل سمجھا جاتا ہے۔ گذشتہ ہفتے شہریوں کے وظیفے سے متعلق قانون پر ریفرنڈم میں ایک لاکھ چھبیس ہزار افراد نے رائے دی۔ ان میں سے ایک لاکھ سے زائد نے ماہانہ وظیفہ مقرر کرنے کی حمایت کی۔

اس قانون کی رو سے آئندہ 18 سال یا اس سے زیادہ عمر کے کسی بھی ریاستی باشندے کو 2500 فرانگ یا 2800 امریکی ڈالر کے مساوی رقم دی جائے گی۔ اٹھارہ سال سے کم عمر کے افراد کے لیے یہ وظیفہ ماہانہ 694 ڈالر ہو گا۔ یوں میاں بیوی اور ان کے دو بچوں پر مشتمل ایک چھوٹے خاندان کو سالانہ 83 ہزار تین سو ڈالر وظیفہ ملے گا۔

اس نئے معاشی نظام کے نفاذ کے بعد مستحق شہریوں کی روایتی انداز میں مدد کے لیے قائم کردہ تمام بنک اور ادارے ختم ہو جائے گے کیونکہ ماہانہ وظیفہ مقرر ہونے کے بعد معذوروں، بے روزگاروں اور ضرورت مندوں کے لیے الگ سے فنڈز قائم کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔