.

القاعدہ کے ساتھ جھڑپ میں کرنل سمیت یمنی فوج کے دو اہلکار ہلاک

لڑائی کے باعث الشحر میں نظام زندگی مفلوج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے سیکیورٹی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ ملک کے جنوب مشرقی گورنری حضر موت کے الشحر شہر میں القاعدہ کے مشتبہ عسکریت پسندوں کے ساتھ جھڑپ میں فوج کا ایک کرنل اور دو دیگر اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔

"العربیہ" ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق القاعدہ کے ساتھ جھڑپ میں مارے جانے والے کرنل کی شناخت محمد الصباحی کے نام سے کی گئی ہے جو حضر موت میں اسپیشل فورسز کا اہم عہدیدار تھا۔

ادھر خبر رساں ادارے "اےایف پی" نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ بدھ کے روز حضر موت میں القاعدہ اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان خونریز جھڑپیں علی الصباح سے جاری ہیں۔ شدت پسندوں کے حملوں میں فوج کا ایک کرنل اور دو دیگر اہلکار مارے گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق القاعدہ جنگجوؤں کے خلاف آپریشن میں شدت لانے کے لیے بکتر گاڑیاں اور مزید فوجی نفری بھی حضرت موت پہنچا دی گئی ہے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ فوج نے عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر بھاری توپخانے سے گولہ باری کی۔ شہر میں غیر علانیہ کرفیو کا سماں ہے۔ عام شہری سخت خوف کا شکار ہیں۔ گذشتہ چند روز سے جاری جھڑپوں کے باعث الشحر شہر میں نظام زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔

واضح رہے کہ یمن کے صحرائی علاقوں میں حضر موت گورنری القاعدہ کے عسکریت پسندوں کا ایک اہم ٹھکانہ سمجھا جاتی ہے۔