.

تیل برآمد کرنیوالے عرب ملکوں میں بیروز گاری کا خطرہ: آئی ایم ایف

سعودی عرب میں اصلاحات کے باعث بیروزگاری کی سطح کم ہوئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عالمی مالیاتی ادارے نے خلیجی عرب ریاستوں کو خبردار کیا ہے کہ دوسرے ملکوں کی سستی لیبر پر انحصار کرنے کی پالیسی ترک نہ کی گئی تو ان عرب ملکوں کے اپنے شہریوں کو آئندہ برسوں کے دوران بے روز گاری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

واضح رہے 1970 کی دہائی سے جنوبی ایشیائی ممالک اور جنوب مشرقی ممالک کے ہنرمند اور نیم ہنرمند محنت کش کم تر تنخواہوں پر خلیجی عرب ممالک کی تعمیر و ترقی میں کردار ادا کر رہے ہیں جبکہ ان ممالک کے اپنے شہری اعلی مناصب اور غیر معمولی مراعات والی ذمہ داریاں پسند کرتے ہیں۔

لیکن اب یہ ماڈل سعودی عرب سمیت دیگر چھ عرب ملکوں میں کامیابی سے آگے بڑھتا نظر نہیں آتا ہے۔ اس کی وجہ ان ملکوں میں تنخواہوں کے سرکاری بل کا غیر معمولی حد تک بڑھ جانا بتایا جا رہا ہے۔

عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کے مطابق خلیج تعاون کونسل کے رکن ملکوں میں کارکنوں کی شرح تین سے چار فیصد سالانہ بڑھ سکتی ہے ۔ اس طرح ان ممالک میں بارہ سے سولہ لاکھ مزید شہری 2018 تک روزگار کی منڈی میں داخل ہو جائیں گے جبکہ ان ممالک میں نئی ملازمتوں کے حوالے سے صرف ایک تہائی بے روزگاروں کو روزگار دینے کی گنجائش ہو گی۔

آئی ایم ایف نے خبردار کیا ہے کہ اگر خلیجی ممالک میں سرکاری شعبے میں ملازمتیں دینے کی یہی رفتار جاری رہی تو آئندہ برسوں میں بے روزگاری میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

سعودی عرب جسے روزگار اور ملازمتوں کے شعبے میں اصلاحات کے حوالے سے زیادہ سرگرم ملک سمجھا جاتا ہے 2011 کے مقابلے میں اس کے ہاں بے روزگاری کی سطح بارہ اعشاریہ چار فیصد سے کم ہو کر گیارہ اعشاریہ آٹھ ہو گئی ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق سعودی عرب میں خواتین میں بےروزگاری کی شرح 35 فیصد ہے جبکہ خلیجی ممالک میں یہ شرح 28 فیصد سے زیادہ ہے۔