.

لیبیا: خاتون رکن پارلیمان کے پرس سے دستی بم برآمد

دستی بم اپنے دفاع کے لیے پاس رکھا ہوا تھا: خاتون کا مؤقف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کی منتخب قومی اسمبلی جنرل نیشنل کانگریس کی ایک خاتون رکن کے پرس سے دستی بم برآمد ہوا ہے۔اس خاتون کا کہنا ہے کہ انھوں نے یہ بم اپنے دفاع کے لیے پاس رکھا ہوا تھا۔

خاتون رکن سواد سلطان جمعرات کو دارالحکومت طرابلس کے سٹی ہال میں ایک اجلاس میں شرکت کے لیے تشریف لائی تھیں جب انھوں نے اپنا بیگ (پرس) میٹل ڈیٹیکٹر سے گزارا تو اس کے الارم بج اٹھے اور اس کی تلاشی لینے پر اس سے دستی بم برآمد ہوا ہے۔

شہری حکومت نے فیس بُک پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ جب سکیورٹی افسر نے خاتون رکن سے پوچھا کہ پرس میں کیا ہے تو انھوں نے اعتراف کیا کہ اس میں گرینیڈ ہے اور وہ اس کو اپنے دفاع کے لیے پاس رکھتی ہیں۔

خاتون رکن کے پرس سے دستی بم نکالنے کے بعد انھیں سٹی ہال میں جانے اور وہاں اجلاس میں شرکت کی اجازت دے دی گئی لیکن جب وہ اجلاس کے خاتمے کے بعد باہر آئیں تو انھوں نے گرینیڈ کی واپسی کا تقاضا کیا لیکن سکیورٹی افسروں نے انھیں انکار کردیا۔

سٹی کونسل نے ایک اور بیان جاری کیا ہے جس میں ان افواہوں کی تردید کی گئی ہے کہ سواد سلطان کو گرفتار کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ 2011ء میں سابق مطلق العنان صدر معمرقذافی کے عوامی بغاوت کے نتیجے میں اقتدار کے خاتمے کے بعد سے بد امنی کا دور دورہ ہے۔طرابلس اور دوسرے شہروں میں مسلح جنگجو دندناتے پھرتے ہیں۔وہ کسی حکومتی ادارے کے کنٹرول میں نہیں بلکہ وہ از خود ہی کارروائیاں کرتے ہیں اور وہ حکومت کے لیے درد سر بنے ہوئے ہیں۔

لیبیا کی حکومت سرکاری کنٹرول سے ماورا اور سکیورٹی فورسز کے خلاف برسرپیکار جنگجو گروپوں کو دارالحکومت طرابلس سے نکال باہر کرنے کے لیے کارروائی کررہی ہے اور اس نے گذشتہ سوموار کو شہر میں امن وامان کے قیام کے لیے فوج کو تعینات کردیا تھا۔