.

مصری انقلاب کو اخوان نے چرا لیا تھا: جان کیری

انقلابی نوجوان مذہب یا نظریے سے متاثر نہ تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے مصر میں فوجی حمایت سے کالعدم قرار دی جانے والی سابق حکمران جماعت الاخوان پر الزام لگایا ہے کہ اس ایجنسی نے 2011 کے مصری انقلاب کو چرا لیا تھا۔

انہوں نے ان خیالات کا اظہار ڈپلومیٹک سکیورٹی اور نجی کاروباری شعبے کے درمیان تعلقات میں اضافے کیلیے منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ہے۔ اس موقع پر انہوں نے انتہا پسندی کے خلاف مشترکہ کوششوں پر زور دیا۔

مصر میں 2011 میں اٹھنے والی انقلابی لہر کے بارے میں جان کیری نے کہا اس وقت ''نوجوان کسی مذہبی یا نظریاتی حوالے سے متاثر نہ تھے۔''

مصر کے نوجوان صرف اس چیز سے متاثر تھے جو باہم جڑی ہوئی دنیا نے انہیں بتایا یا سکھایا تھا۔'' ان کے بقول '' مصری نوجوان تعلیم اور روزگار چاہتے تھے تاکہ اپنے مستقبل کو محفوظ بنا سکیں، وہ نہیں چاہتے تھے کہ ایک کرپٹ حکومت انہیں مزید محرومیوں کا شکار رکھے۔''

امریکی وزیرخارجہ نے کہا'' اسی مقصد کیلیے مصری نوجوانوں نے ٹوئٹر کے ذریعے ایک دوسرے کو متحرک کیا اور اس طرح انقلاب آگے بڑھا۔''

انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا نوجوانوں کی ان کوششوں کے بعد '' یہ انقلاب ملک کی سب سے منظم جماعت اخوان المسلمون نے چرا لیا۔''

واضح رہے جب سے مصر کے پہلے منتخب صدر محمد مرسی کو فوج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح نے برطرف کیا ہے امریکا نے مسلسل کہا کہ وہ تمام لوگوں کو ساتھ لے کر چلنے میں ناکام رہے ہیں۔ مرسی کی برطرفی کے اگلے ماہ جان کیری نے مصر میں فوجی اقدام کا دفاع کیا تھا۔

البتہ مصری فوج کی امداد میں جزوی کم کر دی تھی، تاکہ مصر میں جمہوری عمل کیلیے حکومت پر دباو رہے۔

رواں ماہ کے آغاز میں پہلی مرتبہ جان کیری کے دورہ مصر کے موقع پر امریکا نے مصر کی عبوری حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کا عندیہ دیا تھا، اب یہ پہلا موقع ہے کہ امریکا نے اس امر کا اظہار کیا ہے کہ وہ اخوان کے انتخاب کے بھی حق میں نہیں تھا۔