تیونس میں امریکی فوجی اڈے کے قیام کی بحث پر نیا تنازعہ

سرکاری موقف میں فوجی اڈے کے قیام کی تردید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

تیونس کے سیاسی اور ابلاغی حلقوں میں ملک کے جنوب میں امریکی فوجی اڈے کے ممکنہ قیام سے متعلق خبروں کی اشاعت سے ایک نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔ تیونس وزارت خارجہ کی جانب سے موقف سامنے آیا ہے کہ امریکا، تیونس میں فوجی اڈے کے قیام کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ اس سلسلے میں میڈیا میں جتنی خبریں آئی ہیں ان میں کوئی صداقت نہیں۔

حکومت کے اسی "اصولی موقف" کے جلو میں افریقہ میں تعینات امریکی فوج "افریکیوم" کے سربراہ جنرل ڈیوڈ روڈ ریگیز نے تیونس کا خصوصی دورہ کیا جہاں انہوں نے وزیراعظم علی العریض اور وزیر دفاع رشید الصباغ سمیت متعدد اہم شخصیات سے ملاقات کی۔ ملاقاتوں میں تیونس میں متعین امریکی سفیر جیکب والز بھی موجود تھے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق امریکی اور تیونسی حکام کے درمیان ہونے والی بات چیت میں تیونس میں امن وامان کے قیام میں واشنگٹن کی جانب سے مدد کی فراہمی اور انسداد دہشت گردی کے لیے تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔ تاہم یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ فریقین میں ہوئی بات چیت میں تیونس میں امریکی فوجی اڈے کے قیام کی تجویز بھی زیرغور لائی گئی یا نہیں۔

ملاقات کے بعد ایک مختصر نیوز بریفنگ میں "افریکیوم" کے جنرل ڈیوڈ روڈ ریگیز نے کہا کہ اس ملاقات کا مقصد دو طرفہ سیکیورٹی تعاون بڑھانا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں باہمی تعاون کو فروغ دینا تھا۔ ہم نے انہی امور پر تبادلہ خیال بھی کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکا، تیونس کو سیکیورٹی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ہرممکن معاونت فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ تیونس کا ایک مسئلہ اسلحہ کی اسمگلنگ ہے۔ ہم نے اس مسئلے پرقابو پانے میں مدد کی بھی پیشکش کی ہے۔

جنرل ریگیز نے تیونس حکومت کی جانب سے دہشت گردی کی بیخ کنی کے لیے کیے جانے والے اقدامات پراطمینان کا اظہار کیا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مارے جانے والے شہریوں اور فوجیوں کے لواحقین سے ہمدردی کا بھی اظہار کیا۔
امریکی فوجی اڈے پر تیونس کا سرکاری موقف

تیونس کی وزارت خارجہ نے ملک کے جنوب میں امریکا کے فوجی اڈے کے قیام کی مساعی سے متعلق تمام خبروں کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔ وزارت خارجہ کی جانب سے حال ہی میں بتایا گیا تھا کہ ان کا ملک امریکا کو اپنی سرزمین پر کوئی فوجی اڈہ قائم کرنے کی اجازت نہیں دے رہا ہے۔

تاہم یہ خبر دینے والے حلقوں کا اصرار ہے کہ تیونس اور واشنگٹن کے درمیان پس چلمن فوجی اڈے کے لیے بات چیت جاری ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکا افریقہ میں تعینات اپنی فوج"افریکیوم" کے جرمنی کے شٹوگارٹ فوجی اڈے کو تیونس منتقل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ تیونس میں متعین امریکی سفیر جیکب والز نے بھی ان خبروں کی تردید کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں