''جوہری تنازعہ، معاہدے کی صورت ایران کیلیے پاپندیوں سے ریلیف ''

ریلیف کی سطح چھ ارب ڈالر تک ہو گی، امریکی سفیر سامناتھ پاور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

جنیوا میں جاری ایرانی جوہری تنازعے مذاکرات کے دوران معاہدے کی طرف عملی پیش رفت کی صورت میں ایران کو پابندیوں سے قدرے ریلیف ملنے کا امکان ہے ۔ یہ بات اقوام متحدہ میں امریکی سفیر سامناتھ پاور نے بتائی ہے۔

انہوں نے میڈیا کے سوالوں کے بعد اس بات کو تسلیم کیا کہ ایران کے مشتبہ جوہری پروگرام کے کنٹرول سے متعلق معاملات طے پانے کی صورت میں لگ بھگ چھ ارب ڈالر کی حد تک ریلیف دینے کی تجویز زیر غور ہے۔

سامناتھ پاور کا کہنا تھا '' ایک ایسے وقت میں جب جنیوا میں مذاکرات جاری ہیں میں جزئیات میں جانے کو تیار نہیں، لیکن اتنا بتا سکتی ہوں کہ ایران کو پچاس ارب ڈالر تک کا ریلیف دینے کی بات مبالغے پر مبنی ہے البتہ یہ ریلیف لگ بھگ چھ ارب ڈالر کے قریب ہو سکتا ہے۔''

واضح رہے ایرانی جوہری تنازعے پر چھ عالمی طاقتوں کے ساتھ جنیوا میں ایران کے جاری مذاکرات کے تیسرے دور کا آج تیسرا دن ہے۔ ان مذاکرات میں ابھی تک پیش رفت بین بین ہی بتائی جا رہی ہے۔

ایران نے جمعرات کے روز دوٹوک کہہ دیا ہے کہ وہ یورینیم کی افزودگی کے حق سے دستبردار نہیں ہو گا، یورینم کی افزودگی اس کے لیے سرخ لکیر کی حیثیت رکھتی ہے۔

دوسری طرف ذرائع کا کہنا ہے ایران کو پابندیوں میں ریلیف دیا گیا تو یہ محض اس کے بعض بنک اکاوئںٹس کی حد تک ہو گا جو بحال ہو جائیں گے۔ بتایا جا رہا ہے کہ اس کے ساتھ ہی ساتھ ایران کو تیل کی فروخت میں کچھ پابندیوں سے چھوٹ مل جائے۔

امریکی حکام کے تخمینے کے مطابق ان پابندیوں کی وجہ سے ایران کو تیل کی فروخت نہ ہو سکنے کی وجہ سے ماہانہ پانچ ارب ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔ سامناتھ پاور کا کہنا تھا ''ہم پابندیوں کے لڑکھڑاتے ڈھانچے کو اس کی جگہ پر رکھے ہوئے ہیں۔''

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں