.

سعودی عرب میں 36 ملکوں کے 1270 انجینئرز کی ڈگریاں جعلی قرار

جعلی ڈگری ہولڈرز میں فلپائن، بھارت اور پاکستان تارکین وطن سرفہرست

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی انجینیئرنگ کونسل نے ملک میں مخلتف شعبوں میں 'خدمات' سرانجام دینے والے غیر ملکی انجینیئرز کے بارے میں انکشاف کیا ہے کہ مجموعی طور پر 36 ملکوں کے 1270 انجینیئرز ک ڈگریاں جعلی ہیں۔ ان ملکوں میں فلپائن سرفہرست ہے جبکہ بھارت، پاکستان اور عرب ممالک کے شہری بھی جعلی ڈگریوں پر نوکری کے مزے لوٹ رہے ہیں۔

انجینئرنگ کونسل کے چیئرمین حمد الشقاوی نے ریاض میں صحافیوں کو بتایا کہ فلپائن 379 جعلی ڈگریوں میں سعودی عرب میں پہلے نمبر پر ہے، بھارت 235 کے ساتھ دوسرے، پاکستان 111 کے ساتھ تیسرے، مصر 110 کے ساتھ چوتھے نمبر پرجعلی ڈگریاں جاری کرنے والے ملک قرار پائے ہیں۔ ان کے علاوہ شامی شہریوں سے انجینئرنگ کی 73 جعلی ڈگریاں، اردنیوں کی 61، لبنانیوں کی 58، سوڈانیوں کی 56، فلسطینیوں کی 40 اور خود سعودی انجینیئرز کی 35 جعلی ڈگریاں پکڑی گئی ہیں۔

انجینیئر احمد الشقاوی نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے غیرملکی ماہرین کے کاغذات کی جانچ پڑتال کا عمل جاری ہے۔ اب تک کی تحقیقات میں سعودی عرب میں کام کرنے والے بنگلہ دیش کے 16، چین اور یمن کے 14، فرانس کے 12 افراد کی انجینیئرنگ کی ڈگریان جعلی قرار دی جا چکی ہیں۔ جعلی ڈگری رکھنے والے افراد میں کنینڈا، برطانیہ، سری لنکا، کوریا، ترکی، امریکا، قبرص، کینیا، ملائیشیا، مراکش، یورپ، شمالی اور وسطی افریقہ اور ایشیائی ممالک کے باشندے بھی شامل ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انجینئرکونسل کے سربراہ نے بتایا کہ حالیہ تین مہینوں کے دوران انجینیئرنگ کےشعبے میں پکڑی جانے والی جعلی ڈگریوں کی تعداد میں خاطرخواہ کمی دیکھی گئی ہے۔۔ ان سے پچھلے تین مہینوں میں یومیہ کم سے کم تین جعلی ڈگری ہولڈر سامنے آتے رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ملک میں کام کرنے والے غیرملکی شہریوں کےکاغذات کی جانچ پڑتال کے ایک سال کے عرصے میں تیرہ ہزار افراد کو دستاویزات درستی کی مہلت دی گئی تھی۔ ان میں انجینیئر، ڈرائیور اور دیگر شعبوں میں کام کرنے والے افراد شامل ہیں۔