.

مذاکرات کے لیے یمنی حوثیوں کا نمائندہ خصوصی قاتلانہ حملے میں ہلاک

"یو این" مندوب کی اپنے قافلے پر حملے کی تردید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے باغی حوثی قبائل کی جانب سےحکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے مقرر کردہ خصوصی نمائندہ عبدالکریم جدبان کو صنعاء میں نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کرکے قتل کردیا ہے۔ حوثی گروپ نے جدبان کی ٹارگٹ کلنگ قتل کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ حکومت سے مذاکرات کے لیے صنعا میں تھے۔ ان کی گاڑی پر نامعلوم افراد نے اندھا دھند فائرنگ کی گئی، جس کےنتیجے میں وہ موقع پرہی جاں بحق ہوگئے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق حوثی تنظیم "انصاراللہ" کے ترجمان عبدالکریم الخیوانی نے میڈیا کو بتایا کہ ان کی جماعت کے مندوب برائے مذاکرات عبدالکریم جدبان کو صنعاءکے وسط میں اس وقت دو موٹرسائیکل سواروں نے فائرنگ کا نشانہ بنایا جب وہ جمعہ کی نماز کے بعد مسجد سے نکل کراپنی کار میں بیٹھنے کی تیاری کررہے تھے۔ ترجمان نے جدبان کی ہلاکت کو قدامت پسندوں کی اصلاح پسندوں کے خلاف جاری لڑائی کا تسلسل قرار دیا۔

صنعاء میں "العربیہ" ٹیلی ویژن چینل کے نامہ نگار نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ عبدالکریم جدبان حوثیوں اور حکومت کے درمیان مذاکرات کے لیے ایک فعال کردار ادا کر رہے تھے۔ ان کی ہلاکت حوثیوں اورحکومت کے درمیان کشیدگی قائم رکھنے کی سازش سمجھی جا رہی ہے، تاہم ابھی تک کسی گروپ نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

بعض مبصرین کا خیال ہے کہ عبدالکریم جدبان کی قاتلانہ حملے میں ہلاکت سے ملک میں فرقہ وارانہ فسادات دوبارہ پھوٹ سکتے ہیں۔ نیز اس خونی کارروائی سے حکومت اور حوثیوں کے درمیان مفاہمتی عمل بری طرح متاثر ہو گا۔

خیال رہے کہ عبدالکریم جدبان کی موجودگی میں گذشتہ 18 ستمبر کو حکومت اور حوثی باغیوں کے درمیان مذاکرات ہوئے تھے۔ ان مذاکرات میں حوثیوں کو انتخابات میں حصہ لینے کا حق دیا گیا تھا تاہم بات چیت اس وقت ڈیڈ لاک کا شکار ہوگئی تھی جب حوثیوں نے جنوبی یمن کے کچھ علاقوں کو خود مختاری دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس حوالے سے مذاکرات کا عمل دوبارہ شروع کرنے کے لیے کوششیں جاری تھیں۔ جدبان انہی کوششوں کے سلسلے میں صنعاء آئے تھے۔

ادھر یمن میں متعین اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر جمال بن عمر نے اپنے قافلے پر نامعلوم افراد کی جانب سے فائرنگ سے متعلق خبروں کی تردید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ خبر رساں اداروں کی جانب سے میرے قافلے پرفائرنگ کی جو خبر دی گئی ہےوہ بے بنیاد ہے۔ میری گاڑی صنعاء میں شادی کی ایک تقریب کے قریب سے گذری تھی جہاں شادی میں شریک لوگ آتش بازی کر رہے تھے۔ اس آتش بازی کو فائرنگ قرار دیا گیا تھا جوکہ غلط ہے۔

قبل ازیں برطانوی خبر رساں ایجنسی" رائیٹرز" نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ صنعاء میں "یو این" ہائی کمشنر کے قافلے پرنامعلوم افراد نے فائرنگ کی ہے تاہم وہ اس میں محفوظ رہے ہیں۔