.

مصر نے انقرہ سے اپنا سفیر واپس بلانے کا فیصلہ کر لیا

قاہرہ میں ترک سفیر کو بھی جلد از جلد مصر چھوڑنے کی ہدایت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصری وزارت خارجہ کے ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ ترکی میں متعین مصری سفیر کو ملک واپس بلانے کا حتمی فیصلہ کر لیا گیا ہے۔

ترجمان کے مطابق دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی نمائندگی کے درجے کو بھی گھٹایا جا رہا ہے۔

قاہرہ نے مصری دارلحکومت میں متعین ترک سفیر سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ انہیں ملک میں 'ناپسندیدہ شخصیت' قرار دیئے جانے کے بعد انہیں ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ جلد از جلد مصر کی سرزمین چھوڑ دیں۔


ترجمان کے مطابق ترکی سے سفیر کی واپسی اور سفارتی تعلقات کا درجہ کم کرنے کا فیصلہ وزیر اعظم رجب طیب ایردوآن کے اس بیان کا ردعمل بتایا ہے کہ جس میں انہوں معزول صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔

اپنے بیان میں ایردوآن نے 'رابعہ العدویہ' کی چار انگلیوں پر مشتمل نشان کو بین الاقوامی سطح پر ظلم کے خلاف آواز قرار دیا تھا۔ مصری حکومت نے اسی سال اگست میں رابعہ العدویہ کے مقام پر اخوان المسلمون کے دھرنے کو طاقت کا استعمال کرتے ہوئے منتشر کیا تھا جس میں سیکڑوں افراد جاں بحق و زخمی ہوئے تھے۔

قاہرہ وزارت خارجہ کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ترکی تیس جون کے 'انقلاب' کے بعد سے مسلسل مصر کے داخلی معاملات میں مداخلت کر رہا ہے۔
"مصر، ترک عوام کا احترام کرتا ہے اور دیانت داری سے سمجھتا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی خرابی کا باعث انقرہ کے حالیہ بیانات ہیں۔"

مصر سے شائع ہونے والے موقر اخبار 'الاہرام' کے چیف ایڈیٹر اسامہ عبدالعزیز نے 'العربیہ' سے بات کرتے ہوئے کہ قاہرہ کا حالیہ فیصلہ توقع کے عین مطابق تھا۔ انہوں نے کہا کہ مصری وزیر خارجہ نبیل فھمی اور ترجمان وزارت خارجہ احمد المسلمانی نے ترک قیادت کے بیانات پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مصر کا شدید ردعمل پہنچایا تھا۔