الجزائری خاتون سیاستدان ساتویں مرتبہ سیاسی جماعت کی سربراہ منتخب

"لویزہ حنون نے لیبر پارٹی کو گھر کی باندی بنا رکھا ہے"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

الجزائر میں بائیں بازوں سے تعلق رکھنے والی سب سے بڑی سیاسی جماعت "لیبر پارٹی" نے سابق شکست خوردہ صدارتی امیدوار لویزہ حنون کو ساتویں مرتبہ پارٹی کا جنرل سیکرٹری مقرر کیا ہے۔ مسز حنون سنہ 1989ء میں لیبر پارٹی کے قیام کے بعد سے مسلسل اس عہدے پر تعینات چلی آ رہی ہیں اور انہوں نے جماعت پر اپنی گرفت کے ساتھ 'اجارہ داری' بھی قائم کر رکھی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق حال ہی میں لیبر پارٹی کے جنرل سیکرٹری سمیت مختلف دیگرعہدوں کے چناؤ کے لیے انتخابات کرائے گے جس میں پارٹی کی مرکزی قیادت نے جنرل سیکرٹری کے عہدے کے لیے ایک مرتبہ پھر لویزہ حنون پر اعتماد کا اظہار کرتےہوئے انہیں ساتویں مرتبہ اس اعلیٰ ترین عہدے کے لیے منتخب کیا ہے۔

لویزہ نے سنہ 2004 اور 2009ء کے صدارتی انتخابات میں بھی قسمت آزمائی کی تھی مگر وہ صدرعبدالعزیز بوتفلیقہ کے مقابلے میں دونوں مرتبہ بری طرح شکست کھا گئی تھیں، تاہم انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔ آئندہ سال اپریل میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے لیے وہ ایک مرتبہ پھر پوری فارم میں دکھائی دے رہی ہیں۔

پارٹی کے نویں انتخابی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے لویزہ حنون نے کہا کہ وہ ملک میں شفاف اور غیر جانب دار صدارتی انتخابات چاہتی ہیں مگراس سلسلے میں کسی غیر ملکی مداخلت کو ہر گز قبول نہیں کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک کی چھ ہزار کلومیٹرکی سرحدیں علاقائی کشیدگی کے باعث غیر محفوظ ہیں۔ ایسے میں ہم غیرملکی مداخلت کے متحمل نہیں ہوسکتے ہیں۔

واضح رہے کہ لویزہ حنون واحد اپوزیشن رہ نما ہیں جن کے صدر بوتفلیقہ کے ساتھ بھی اچھے تعلقات رہے ہیں۔ سنہ 2004ء کے صدارتی انتخابات میں شکست کے بعد حنون پہلی اپوزیشن اور شکست خوردہ امیدوارتھیں جنہوں نے عبدالعزیز بوتفلیقہ کو صدر منتخب ہونے پر مبارکباد پیش کی تھی۔ انہوں نے انتخابی عمل کو شفاف اور غیرجانب دارانہ قرار دیتے ہوئے کھلے دل سے نتائج تسلیم کر لیے تھے، جبکہ دیگر تمام صدارتی امیداوار عبدالعزیز بوتفلیقہ پر آج تک برہم ہیں۔

الجزائر کے سیاسی اور ابلاغی حلقوں میں لیبر پارٹی کی جنرل سیکرٹری لویزہ حنون کے سیاسی نظریات پر بحث چلتی رہتی ہے۔ بار بار پارٹی کے اہم ترین عہدے پر ان کی تعیناتی لویزہ کے سیاسی نظریات پرایک بڑا سوالیہ نشان بن چکا ہے۔ ان کے مخالف حلقوں اور میڈیا میں یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ لویزہ حنون آمرانہ مزاج کی سیاست دان ہیں۔ انہوں نے سات مرتبہ پارٹی کے ایک ہی عہدے پر فائز ہونا قبول کر کے یہ ثابت کردیا ہے وہ لیبر پارٹی پر اپنی اجارہ داری قائم رکھنا چاہتی ہیں۔ فیصلہ سازی کے تمام اختیارات اپنے پاس رکھنا چاہتی ہیں اورپارٹی میں اپنے مدمقابل کسی دوسرے لیڈر کو آگے آتے دیکھنا پسند نہیں کرتیں۔

دانشور اور مصنف محمد بغداد نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے لیبر پارٹی اور لویزہ حنون کی سیاست بارے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "میرے نزدیک کسی اہم شخصیت کا اہم عہدے سے چمٹے رہنا جمہوریت نہیں ہے۔ لویزہ حنون اپنی پارٹی میں جتنی مقبول رہنما ہوں مگر ان کا بار بار ایک ہی عہدے پر متمکن ہونا ان کے سیاسی نظریات کے بارے میں ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے کہا کہ لویزہ کے انداز سیاست سے ایسے لگ رہا ہے کہ وہ تاحیات پارٹی کی صدر رہنا اور اختیارات کو اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتی ہیں۔

خیال رہے کہ 59 سالہ لویزہ حنون کو سنہ 1980ء کے عشرے میں سیاسی اور سماجی سرگرمیوں حراست میں لیا گیا۔ ان پر قومی مفادات کے خلاف کام کرنے اور ایک خفیہ تنظیم سے وابستگی کے الزام میں مقدمہ بھی چلایا گیا۔ ایک سال تک قید میں رہنے کے بعد انہیں رہا کر دیا گیا۔

لویزہ حنون نے باقاعدہ سیاست میں قدم رکھنے کے بعد مذہبی اور سیکولر دونوں طبقات کو اپنا ہمنوا بنانے کی مساعی جاری رکھیں۔ انہیں ملک کے اسلام پسندوں میں بھی اچھی خاصی مقبولیت حاصل رہی ہے۔ لویزہ اسلام پسندوں کےسیاسی حقوق کے لیے آواز اٹھاتی رہی ہیں تاہم حالیہ چند برسوں سے ان کی صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ ساتھ بڑھتی قربت اور اسلام پسندوں کے بارے میں بدلتے بیانات نے مذہبی حلقوں کو مایوس کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں