امریکا نے ایران کے 8 ارب ڈالرز کے اثاثے غیر منجمد کردیے

پابندیوں میں نرمی سے ایرانی تیل برآمدات میں آیندہ 6 ماہ میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایران کے چیمبر آف کامرس کے سابق سربراہ علی نقی خاموشی نے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے اسلامی جمہوریہ کے آٹھ ارب ڈالرز کے منجمد اثاثے غیر منجمد کردیے ہیں۔

خاموشی نے اتوار کو ایران کی سرکاری خبررساں ایجنسی ایرنا کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''چھے بڑی طاقتوں کے ساتھ سمجھوتے سے ایران کی جانب ایک نیا رستہ کھلے گا اور اس سے یورپی ممالک اور امریکا کے ساتھ بتدریج تجارتی تعلقات کو فروغ دینے کی راہ ہموار ہو گی''۔

انھوں نے کہا کہ اگر دونوں جانب سے اعتماد کی فضا بحال کرنے کے لیے اقدامات کو مناسب طریقے سے بروئے کار لایا گیا تو اس سے ایران کے امریکا کے ساتھ تعلقات کو بھی بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

درایں اثناء برطانوی وزیر خارجہ ولیم ہیگ نے کہا ہے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل رکن ممالک اور جرمنی اور ایران کے درمیان ڈیل پر دستخط کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ معاہدے کے تحت ایران کو پابندیوں سے ریلیف مل سکے گا۔

امریکا کی جانب سے غیر منجمد کیے جانے والے اثاثوں کے ایران کی سونے اور قیمتی دھاتوں کی تجارت اور پیٹرو کیمیکل کے شعبےمیں اثرات مرتب ہوں گے۔تاہم امریکا کا کہنا ہے کہ جوہری تنازعے پر طے پائے معاہدے کے تحت مزید ایرانی تیل کو مارکیٹ میں نہیں لایا جاسکے گا اور نہ مغرب کی کمپنیاں آیندہ چھے ماہ کے دوران ایران میں کوئی سرمایہ کاری کرسکیں گی۔

وائٹ ہاؤس کی جانب سے امریکی محکمہ خارجہ کی ویب سائٹ پر جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ''آیندہ چھے ماہ کے دوران ایران کے خام تیل کی فروخت میں اضافہ نہیں کیا جاسکتا۔ایران پر یورپی یونین کی جانب سے تیل کی فروخت پر عاید پابندی برقرار رہے گی اور وہ دس لاکھ بیرل یومیہ تک تیل فروخت کرتا رہے گا۔اس طرح اسے ہر ماہ تیل کی فروخت کی مد میں چار ارب ڈالرز مالیت کا نقصان برداشت کرنا پڑے گا''۔

واضح رہے کہ امریکا اور یورپی یونین کی جانب سے ایران کے توانائی کے شعبے پر عاید کردہ پابندیوں کے نتیجے میں مغرب کی توانائی کمپنیاں اس کے ساتھ کوئی کاروباری معاہدہ نہیں کرسکتی ہیں۔ان پابندیوں کے نتیجے میں ایران کی تیل کی یومیہ پچیس لاکھ بیرل برآمدات کم ہو کر صرف دس لاکھ بیرل یومیہ رہ گئی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں