امریکا نے ایران سے ڈیل پرآنکھیں کھلی رکھی ہیں:جان کیری

ایران اپنی ذمے داریوں کو پورا نہیں کرتا،تو اس کے خطرات سے آگاہ ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی وزیرخارجہ جان کیری کا کہنا ہے کہ اوباما انتظامیہ کو ایران کے ساتھ طے پائے جوہری معاہدے سے متعلق کوئِی ابہام نہیں ہے۔اگر ایران اپنی ذمے داریوں کو پورا نہیں کرتا اور اس سے جو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں،تو وہ اس سے بھی آگاہ ہے۔

جان کیری نے اتوار کو سی این این کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ ''ایران کے ساتھ جوہری تنازعے پر مذاکرات کے دوران امریکی عہدے داروں نے اپنی آنکھیں بڑی کھلی رکھی ہیں''۔وہ امریکی ارکان کانگریس کو یقین دہانی کرانے کی کوشش کررہے تھے جو ایران کے ساتھ چھے ماہ کی مدت کے لیے طے پائے معاہدے پر اپنے شکوک کا اظہار کررہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ''ہمیں کوئی ابہام یا التباس نہیں ہے،ہم نے یہ معاہدہ کسی شخص کے بیانات کی بنا پر نہیں کیا بلکہ ہم نے اس کو اقدامات کی بنیاد پر کیا ہے اور ان کی تصدیق بھی کی جاسکتی ہے''۔

جان کیری نے سی این این کے ''اسٹیٹ آف دی یونین'' پروگرام'' میں امریکا کی حلیف ریاست اسرائیل کو بھِی یقین دہانی کرانے کی کوشش کی ہے۔انھوں نے کہا کہ ''اسرائیل ایران میں جو کچھ ہورہا تھا،اس سے خوف زدہ تھا لیکن مجھے یقین ہے کہ وہ آج کے دن سے کل کی نسبت زیادہ محفوظ ہوگیا ہے۔

ان کے بہ قول ہم نے ایک میکا نزم وضع کیا ہے جس کے تحت ہم اس مدت کو بڑھانے جارہے ہیں کہ جس میں ایرانی جوہری بم کی تیاری کی جانب پیش قدمی کرسکتے تھے۔اب ہماری ان کے جوہری پروگرام پر نظر ہوگی جبکہ اس سے پہلے ہماری ان کے پروگرام تک رسائِی نہیں تھی۔

جنیوا میں ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان مذاکرات کے بعد طے شدہ معاہدے کے تحت ایران یورینیم کو پانچ فی صد کی سطح سے زیادہ مصفیٰ کرنے کے پروگرام کو منجمد کردے گا۔اس کے بدلے میں اس پر عاید پابندیوں میں نرمی کردی جائے گی اور اسے قریباً سات ارب ڈالرز تک ریلیف دیا جائے گا۔

معاہدے کے تحت ایران نے عالمی طاقتوں سے یہ بھی وعدہ کیا ہے کہ وہ نئی سینیٹری فیوجز مشینیں نصب نہیں کرے گا۔تاہم اس کو اپنی یورینیم افزودگی کی دو تنصیبات میں سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت ہوگی۔اس عبوری معاہدے پر عمل درآمد کے لیے چھے ماہ کی مدت مقرر کی گئِی ہے۔اگر ایران نے اس دوران طے شدہ امور پر عمل درآمد کیا تو پھر اس کے بعد فریقین کے درمیان حتمی معاہدے کے لیے مذاکرات ہوں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں