.

سعودی عرب: دہشت گردی سمیت دیگر جرائم میں ملوث 19 ملزمان کو 219 سال قید

ملزمان عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل کرسکیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی ایک فوجداری عدالت نے دہشت گردی اور دیگر جرائم میں ملوث 55 ملزمان کے گروپ میں سے 19 کومجموعی طور پر 219 سال قید کی سزائیں جبکہ ایک ملزم کوقصاص میں سزائے موت کا حکم دیا ہے۔ دیگر ملزمان کے بارے میں عدالتی فیصلہ اگلے ایک دو روز میں متوقع ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ریاض میں قائم ایک فوجداری عدالت نے اتوار کے روز پچپن مشتبہ دہشت گردوں اور سماجی جرائم میں ملوث گروپ میں سے ایک ملزم کو جدہ میں امریکی قونصلیٹ پر دھاوا بولنے اور پانچ افراد کو ہلاک کرنے کے جرم میں پھانسی دینے کا حکم دیا۔

دیگرانیس ملزمان کوامریکی قونصل خانے پر حملے میں معاونت اور دیگر الزامات جرم کی نوعیت کی مطابق مختلف عرصے کی قید کی سزائیں سنائی گئیں۔ ملزمان پر منی لانڈرنگ، حکومت کے خلاف بغاوت، ضلعی گورنروں اور اہم شخصیات کے اغواء کی منصوبہ بندی، الرابغ آئل ریفائنری کو دھماکے سے اڑانے کی منصوبہ بندی، ہائی جیکنگ، خفیہ سرگرمیوں کے لیے تنظیم کا قیام، رقوم جمع کرنے اور ممنوعہ اسلحہ رکھنے جیسے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔

عدالت نے ملزمان کو کم سے کم ڈیڑھ اور زیادہ سے زیادہ 25 سال قید کی سزائیں سنائیں۔عدالت میں پیش کی گئی ملزمان کی فہرست میں ملزم اول کو08 سال چھ ماہ، دوسرے کو 16 سال تیسرے ملزم کو 23 اور چوتھے ملزم کو 19 سال، پانچویں ملزم کو18 سال اور ساتویں ملزم کو دہشت گردوں کو پناہ دینے اور منی لانڈرنگ کے الزام میں 20 سال قید با مشقت کی سزا کا حکم دیا۔

آٹھویں ملزم کو 25 سال قید اور رہائی کے بعد بیرون ملک سفرپابندی، نویں ملزم کو18 اور دسویں ملزم کو20 سال قید کی سزا کا حکم دیا گیا۔ دیگر ملزمان کو بھی اسی نوعیت کی سزائیں سنائی گئیں۔ تمام ملزمان سزا کےخلاف تیس دن میں عدالت میں اپیل کرسکتے ہیں۔