.

ضمانتوں کے حصول کے لیے"جنیوا 2" مؤخر کرنے کی تجویز

ایران ۔ مغرب معاہدے کے شامی تنازع پر منفی اثرات نہیں پڑیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی اپوزیشن کی جانب سے ملک میں جاری شورش کے خاتمے کے لیے"جنیوا 2" اجلاس آئندہ سال فروری تک ملتوی کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے۔

العربیہ ٹیلی ویژن کی رپورٹ کےمطابق جنیوا میں موجود شامی اپوزیشن کا ایک وفد روسی نائب وزیر خارجہ بوگدانوف اور "یو این" ایلچی الاخضر الابراہیمی سے ملاقات کی تیاری کر رہا ہے۔ ان ملاقاتوں میں جنیوا 2 کو کچھ عرصے کے لیے ملتوی کرنے کی تجویز دی جائے گی تاکہ اس دوران اپوزیشن جیش الحر اور حکومت مخالف تمام دھڑوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کی جا سکے۔

رپورٹ کے مطابق شامی اپوزیشن کے نمائندہ وفد نے عالمی برادری سے گذشتہ برس ہوئے"جنیوا1" اجلاس کے فیصلوں پر عمل درآمد کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ شامی اپوزیشن اتحاد کی جانب سے"جنیوا 2" سے قبل تمام اپوزیشن دھڑوں کو متحد کرنے کے لیے اعتماد سازی کی فضاء پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا جائے گا۔ روسی وزیر خارجہ اور عالمی امن مندوب سے ملاقات میں اپوزیشن یہ مطالبہ بھی رکھیں گے کہ وہ صدر اسد پر محصور شہروں کا محاصرہ ختم کرنے اورامدادی اداروں کو متاثرہ شہریوں تک رسائی دینے کے لیے دباؤ ڈالیں۔

نیز یہ تجویز بھی پیش کی جائے گی کہ جنیوا اجلاس اس وقت تک ملتوی رکھا جائے جب تک امریکا اور روس اور شامی اوزیشن کے تمام دھڑے کسی فارمولے پر اتفاق نہیں کر لیتے ہیں اور اپوزیشن کو کسی ممکنہ معاہدے کی قبل از وقت ضمانتیں نہیں مل جاتیں۔ اس کے لیے مزید تین ماہ کا عرصہ بھی لگ سکتا ہے، اس لیے جنیوا 2 کو آئندہ سال فروری تک ملتوی کردینا چاہیے۔

درایں اثناء شامی اپوزیشن جماعت "التغییر قومی پارٹی" کی سینیئر رکن بہیہ ماردینی کا کہنا ہے کہ انہوں نے امریکی سفیر رابرٹ فورڈ سے ملاقات میں "جنیوا 2 " کانفرنس کو کامیاب بنانے کی ضمانتوں پر بات کی ہے۔ مسز بہیہ کا کہنا ہے کہ امریکی سفیر نے انہیں یقین دہانی کرائی ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر معاہدے کا شام کے تنازع پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا اور نہ ہی اس معاہدے کےبعد امریکا اور مغرب کی شام بارے پالیسی تبدیل ہوگی کیونکہ امریکا دونوں معاملات کو الگ الگ حیثیت سے ڈیل کر رہا ہے۔

مبصرین کے خیال میں جنیوا 2 اجلاس شام کے بحران کے حل کےحوالے سے اہم ترین موقع ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ اس اجلاس میں تمام فریق پوری تیاری کے ساتھ شریک ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ "جنیوا 2" اجلاس کے لیے کوششیں پچھلے ایک سال سے جاری ہیں لیکن تاحال اس کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا جا سکا ہے۔