.

فرانس کی عراق کو بدامنی پر قابو پانے کے لیے مدد کی پیش کش

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں انٹیلی جنس مدد دینے کو تیار ہیں: فرانسیسی سفیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس نے عراق میں جاری بدامنی اور تشدد کے واقعات پر قابو پانے کے لیے ہتھیاروں ،تربیت اور انٹیلی جنس کے شعبے میں تعاون کی پیش کش کی ہے۔

بغداد میں متعین فرانسیسی سفیر ڈینس گوئر نے یہ پیش کش عراق کے دورے پر آئے ہوئے اپنے ملک کے ایک تجارتی وفد کے اعزاز میں سوموار کو منعقدہ تقریب میں تقریر کرتے ہوئے کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم عراق کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں آلات، تربیت، انٹیلی جنس اور زخمیوں کے علاج معالجے کے ضمن میں مدد دینے کو تیار ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ''ہم عراقی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کو تیار ہیں''۔ اس تقریر کے بعد جب فرانسیسی سفیر سے سوال کیا گیا کہ کیا اس مدد میں ہتھیاروں کی فروخت بھی شامل ہو گی تو ان کا کہنا تھا کہ ''ہاں''۔

فرانس کی جانب سے عراق کو یہ پیش کش اس کی عالمی برادری سے مدد کی اپیل کے جواب میں کی گئی ہے۔ اس سے پہلے ترکی بھی عراق میں جنگ پسندی پر قابو پانے اور قیام امن کےلیے مدد کی پیش کش کر چکا ہے۔

عراقی وزیر اعظم نوری المالکی نے اپنے حالیہ دورۂ امریکا میں اوباما انتظامیہ سے سراغرسانی کے تبادلے اور جنگجوؤں سے نمٹنے کے لیے بر وقت جدید ہتھیار مہیا کرنے کی اپیل کی تھی۔

واضح رہے کہ عراق میں اس ماہ اب تک تشدد کے مختلف واقعات میں قریباً چھے ہزار افراد مارے جا چکے ہیں۔2008ء میں شیعہ سنی فرقہ وارانہ جنگ کے بعد اس ملک میں ایک ماہ میں یہ سب سے زیادہ ہلاکتیں ہیں۔

عراقی حکام ملک میں القاعدہ کے دوبارہ احیاء اور اس کے جنگجوؤں کی حالیہ کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کرچکے ہیں۔القاعدہ کے جنگجوؤں کو پڑوسی ملک شام میں جاری خانہ جنگی سے بھی تقویت ملی ہے اور انھوں نے اپنی کارروائیوں کا دائرہ کار بڑھا دیا ہے۔

لیکن سفارت کاروں، تجزیہ کاروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ عراقی حکومت بدامنی کی حقیقی وجوہ کو دور کرنے کی کوشش نہیں کر رہی ہے۔ خاص طور پر وہ شیعہ حکام کے اہل سنت سے ناروا سلوک سے متعلق شکایات پر کوئی کان نہیں دھر رہی ہے۔