.

مالی:طورق مظاہرین کا پولنگ کا بائیکاٹ،آزادی کے حق میں نعرے بازی

مظاہرین نے بیلٹ باکسز توڑ دیے ،انتخابی عملے سے مواد چھین لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مالی کے شمال مشرقی علاقے میں طورق علاحدگی پسندوں نےاتوار کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں لوگوں کو ووٹ ڈالنے سے روک دیا ہے۔

ایک فوجی ذریعےنے بتایا ہے کہ گئو سے 180کلومیٹر مشرق میں واقع قصبے طلطیہ میں مظاہرین نے بیلٹ بکسوں کو توڑ دیا اور آزادی کے حق میں اور انتخابات کے خلاف نعرے بازی کی۔

طلطیے کے مئیر محمد اصالی کا کہنا ہے کہ قریباً دوہزار افراد نے مظاہرے میں حصہ لیا مگر فوجی ذریعے نے مظاہرین کی اس تعداد کی تصدیق نہیں کی۔مئیر اصالی نے بتایا کہ ''یہاں دس ہزار رجسٹرڈ ووٹر تھے لیکن کوئی ووٹ نہیں ڈالا گیا۔قصبے کی آبادی نے پولنگ کے خلاف مظاہرہ کیا اور انتخابی مواد چھین لیا ہے''۔

محمد اصالی ماضی میں نسل پرست طورق قومی تحریک برائے آزادی کے رکن رہے ہیں لیکن ایک ماہ قبل انھوں نے اس مسلح گروپ کو چھوڑ کر طورق سول سوسائٹی کے ارکان کے ساتھ اتحاد قائم کر لیا تھا۔ان میں سابق علاحدگی پسند جنگجو اور جہادی شامل ہیں۔

مالی میں گذشتہ سال مارچ میں فوجی بغاوت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بدامنی اور افراتفری کے بعد یہ پہلے پارلیمانی انتخابات ہورہے ہیں۔فوجی بغاوت کے بعد طورق قبائلیوں نے شمالی مالی میں خودمختاری کا اعلان کردیا تھا جبکہ اس دوران القاعدہ کے جنگجو بھی ان کے ساتھ آن ملے تھے اور انھوں نے متعدد شہروں اور قصبوں پر قبضہ کر لیا تھا۔

لیکن جنوری 2013ء میں فرانسیسی فوج نے ان کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا تھا اور اس کے فضائی حملوں کے بعد وہ شہری علاقوں کو چھوڑ کر پہاڑی علاقوں کی جانب جانے پر مجبور ہوگئے تھے۔