.

کشیدگی کی فضا میں لیبی فوج کا بنغازی میں"نفیرعام" کا اعلان

جھڑپوں میں پانچ سیکیورٹی اہلکار ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے بڑے شہر بنغازی میں شدت پسند تنظیم کے ساتھ جھڑپوں کےبعد فوج نے"نفیرعام" کا اعلان کرتے ہوئے تمام عسکری گروپوں کو اپنی چھاؤنیوں میں جمع ہونے کی ہدایت کی ہے۔ ادھر بنغازی میں سلفی جہادی تنظیم انصار الشریعہ اور فوج کے درمیان جھڑپوں میں کم سے کم پانچ اہلکاروں کے مارے جانے کی اطلاعات ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کےمطابق بنغازی کی عسکری کمان کے زیر انتظام آپریشن سیکیورٹی روم کےترجمان نے کہا ہے کہ آپریشنل روم کے نگران کرنل عبداللہ السعیطی نے تمام عسکری گروپوں کو اپنے کیمپوں میں رپورٹ کرنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام عسکری گروپوں کو اپنے مراکز میں جمع کرنے کا مقصد نفیرعام کا اعلان کرنا ہے۔

ملٹری ترجمان کا کہنا تھا کہ اعلیٰ کمان کی ہدایت کے باوجود عسکری گروپوں میں سے جو بھی اپنے ٹھکانے پر موجود نہیں ہو گا، اسے نفیر عام کے اعلان سے فرار سمجھا جائے گا اور اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے گی جس کی تمام تر ذمہ داری عسکری گروپ پر ہو گی۔

بنغازی میں اسپیشل سیکیورٹی فورسز اورشدت پسند تنظیم انصارالشریعہ کے درمیان خونی تصادم آج سوموار کوعلی الصباح ہوا جس کے نتیجے میں کم سے کم پانچ افراد مارے گئے ہیں۔ مرنے والے تمام سیکیورٹی اہلکار بتائے جاتے ہیں۔

بنغازی اسپیشل فورسز کے ترجمان کیپٹن ملیود الزوی نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی"اے ایف پی" کو بتایا کہ شدت پسند تنظیم کے ساتھ جھڑپ میں پانچ اہلکار مارے گئے ہیں جبکہ 14 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جن میں فوجی اور عام شہری بھی شامل ہیں۔

ترجمان کےمطابق جھڑپیں اس وقت شروع ہوئیں جب جزیرہ دوران کے البرکہ علاقے میں متمرکزسیکیورٹی فورسز کی ایک گشتی پارٹی پر"انصار الشریعہ" کے جنگجوؤں نے حملہ کردیا۔ جس کے نتیجے میںمتعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔ دوسری جھڑپیں راس العبیدہ اور مغربی السلمانی میں ہوئیں انصار الشریعہ کے زیر اہتمام ایک ڈسپنسری بھی قائم ہے۔

خیال رہے کہ لیبیا میں ماضی میں باغیوں کے گڑھ رہنے والے شہر بنغازی میں ایک ماہ سے خون ریز جھڑپیں ہو رہی ہیں۔ تازہ جھڑپیں اس ماہ کی خون ریز کارروائی بتائی جا رہی ہے۔ تاہم باغیوں کے حملوں میں کئی سیکیورٹی اہلکار، سیاست دان اور صحافی بھی مارے جا چکے ہیں۔