.

اقوام متحدہ: جنیوا دوم کانفرنس 22 جنوری کو منعقد کرانے کا اعلان

کانفرنس امید کا مشن ہوگی اور اسی مقصد کے لیے جنیوا جائیں گے: بین کی مون

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے شام میں جاری خانہ جنگی کے خاتمے اور وہاں قیام امن کے لیے مجوزہ جنیوا دوم کانفرنس 22 جنوری 2014ء کو منعقد کرانے کا اعلان کیا ہے۔

سیکرٹری جنرل بین کی مون نے سوموار کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ ''یہ امن کانفرنس امید کا ایک مشن ہوگی اور ہم اسی مقصد کے لیے جنیوا جائیں گے''۔

انھوں نے بیان میں یہ وضاحت نہیں کی کہ اس میں کون کون فریق شرکت کرے گا اور نہ انھوں نے یہ بتایا ہے کہ آیا ایران کو اس میں شرکت کی دعوت دی جائے گی یا نہیں۔اس کانفرنس کے انعقاد کے لیے مہم چلانے والے دونوں ممالک امریکا اور روس کے درمیان ایران کو مدعو کرنے کے حوالے سے اختلاف پایا جاتا ہے۔

سیکرٹری جنرل کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق ''شام میں جاری تنازعہ بہت طویل ہو چکا ہے اور اگر اس کے نتیجے میں عوام کے مسائل اور تباہ کاریوں کو روکنے کے لیے اس موقع سے فائدہ نہیں اٹھایا جاتا تو یہ ایک ناقابل معافی امر ہو گا''۔

مجوزہ جنیوا دوم امن کانفرنس جون 2012ء میں منعقدہ کانفرنس کا فالو اپ ہوگی۔ اس سابقہ کانفرنس میں شریک ممالک نے شام میں ایک عبوری حکومت کی تشکیل پر زور دیا تھا اور اس میں طے شدہ سمجھوتے میں کہا گیا تھا کہ آیندہ جنیوا میں امن مذاکرات سے قبل فریقین قیام امن کے لیے اپنی ذمے داریوں کو پورا کریں گے۔

بین کی مون نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ جنیوا کانفرنس پُرامن انتقال اقتدار کی گاڑی ہے۔ یہ شامی عوام کی آزادی اور وقار کے لیے امنگوں کو بھی پورا کرتی ہے اور اس میں شام کے تمام طبقات کے تحفظ کی ضمانت دی گئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ''اس کا مقصد 30 جون 2012ء کو طے پائے جنیوا اعلامیے پر مکمل عمل درآمد ہے۔ یہ اعلامیہ باہمی رضا مندی پر مبنی تھا۔اس میں مکمل انتظامی اختیارات کی حامل عبوری حکومت کے قیام پر اتفاق کیا گیا تھا اور اس حکومت کو فوج اور سکیورٹی اداروں پر بھی مکمل اختیار ہوگا''۔

قبل ازیں آج سوموار کو شام کے لیے اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے خصوصی ایلچی الخضرالابراہیمی نے جنیوا میں روس کے نائب وزرائے خارجہ میخائل بوغدانوف اور گینیڈی گیٹی لوف اور امریکا کی نائب وزیر خارجہ وینڈی شرمین سے ملاقات کی تھی اور اس میں جنیوا دوم کانفرنس کے لیے تاریخ کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

شامی صدر بشارالاسد کا سب سے بڑا حامی اور پشتی بان ملک روس ان کی حکومت پر اس کانفرنس میں شرکت کے لیے زوردے رہا ہے جبکہ امریکا ، برطانیہ اور فرانس شامی حزب اختلاف کو اس میں شرکت پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

شامی حزب اختلاف کے قومی اتحاد (ایس این سی) نے اس کانفرنس میں شرکت پر رضامندی ظاہر کر دی ہے لیکن خانہ جنگی کا شکار ملک میں صدر بشار الاسد کی وفادار فوج سے بر سر پیکار باغی جنگجو اس کی اتھارٹی کو چیلنج کر رہے ہیں اور انھوں نے کانفرنس میں شرکت کرنے والوں کو سنگین نتائج کی دھمکی دے رکھی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جو کوئی بھی جنیوا گیا، اس کو غدار سمجھا جائے گا۔

حزب اختلاف اس کانفرنس میں شرکت سے قبل صدر بشارالاسد کی رخصتی کی یقین دہانی کرانے کا مطالبہ کرتی رہی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ بشار الاسد اقتدار چھوڑ دیں اور ان کی جگہ ایک عبوری حکومت قائم کی جائے مگر اسد حکومت اس مطالبے کو مسترد کر چکی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ صدر کے مستقبل کے حوالے سے جنیوا میں ہرگز کوئی بھی بات چیت نہیں کی جائے گی۔