.

ایرانی تنازعے کے حل کے لیے نیک نیّتی درکار ہے: سعودی عرب

مشرق وسطیٰ اور خلیج کے خطے کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کیا جائے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کا کہنا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کے تنازعے کے حل کے لیے نیک نیّتی درکار ہے۔

سعودی عرب کی سرکاری خبررساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق وزیرِ ثقافت اور اطلاعات عبدالعزیز بن محیی الدین خوجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''اگر نیک نیّتی سے کام لیا گیا تو یہ سمجھوتا ایران کے جوہری پروگرام کے جامع حل کی جانب پہلا قدم ثابت ہوسکتا ہے''۔

انھوں نے کہا کہ ''اس جامع حل کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ اور خلیج سے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے تمام ہتھیاراور بالخصوص جوہری ہتھیار تباہ کیے جانے چاہئیں۔اس حل کے بعد اہم اقدامات کیے جائیں اور ان کے تحت خطے کی تمام ریاستوں کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق ہونا چاہیے''۔

سعودی عرب کی جانب سے یہ بیان ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان جوہری تنازعے کے حل کے لیے جنیوا میں طے پائے سمجھوتے کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے۔ اس کے تحت ایران یورینیم کو پانچ فی صد کی سطح سے زیادہ مصفیٰ کرنے کے پروگرام کو منجمد کردے گا۔اس کے بدلے میں اس پر عاید پابندیوں میں نرمی کردی جائے گی اور اسے قریباً سات ارب ڈالرز تک ریلیف دیا جائے گا۔

واضح رہے کہ سعودی عرب ایک عرصے سے ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں اپنے شکوک کا اظہار کرتا چلا آ رہا ہے اور وہ اس خدشے کا اظہار کرچکا ہے کہ ایران اس کے ذریعے جوہری بم تیار کرنا چاہتا ہے۔

مشرق وسطیٰ کی غیر علانیہ جوہری قوت اسرائیل بھِی ایران کے جوہری پروگرام کی مخالفت کرتا چلا آرہا ہے اور اس نے ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان جنیوا میں طے پائی ڈیل کی شدید مخالفت کی ہے اور اسے ایک تاریخی غلطی قراردیا ہے۔

یورپی یونین کے اسرائیل کے لیے نامزد سفیر لارس فابرگ اینڈرسن نے اس سمجھوتے سے متعلق اسرائیلیوں کو یقین دہانے کی کوشش کی ہے۔اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق انھوں نے سوموار کو مقبوضہ بیت المقدس میں یورپی سفیروں کی اسرائیل کے انٹیلی جنس سفیر یووال اسٹینٹز کے ساتھ ملاقات کے دوران کہا کہ ''ہم نے اسرائیل کی سکیورٹی کو ملحوظ خاطر رکھا ہے''۔

انھوں نے ایران کی جانب سے اسرائیل کے خلاف اشتعال انگیز بیانات کی مذمت کی۔تاہم انھوں نے ڈیل کو سراہا اور کہا کہ گذشتہ دس سال میں یہ پہلا موقع ہے کہ ایران کے ساتھ اس کے جوہری پروگرام پر قدغنیں لگانے کے لیے یہ معاہدہ ہوا ہے۔

درایں اثناء اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے اپنے قومی سلامتی کے مشیر کو واشنگٹن روانہ کرنے کا اعلان کیا ہے جو وہاں امریکا سے ایران کے ساتھ حتمی معاہدے کے بارے میں بات چیت کریں گے۔

انھوں نے اسرائیلی پارلیمان کو بتایا کہ ''میں نے گذشتہ روز صدر براک اوباما سے ٹیلی فون پر بات کی ہے اور ہم دونوں نے آیندہ چند روز میں قومی سلامتی کے مشیر یوسی کوہن کی قیادت میں ایک ٹیم امریکا بھیجنے سے اتفاق کیا ہے''۔ امریکی صدر نے اس فون کال کے دوران کہا تھا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ ایران سے معاہدے سے متعلق فوری مشاورت کرنا اور اس کی تشویش دور کرنا چاہتے ہیں۔