.

شامی خانہ جنگی میں ڈنمارک کے 80 نوجوان بھی شامل

زیادہ تر شام میں اسلام پسند باغی گروپوں میں شامل ہو گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں بشار الاسد کی فورسز سے لڑنے کیلیے اب تک ڈنمارک کے 80 باشندے شام جا چکے ہیں۔ ان 80 ڈینش شہریوں میں دو نو عمر سگی بہنیں بھی شامل ہیں۔

ڈنمارک سے شام جانے والے ان افراد کی عمریں بالعموم 16 سال سے 25 سال تک ہیں۔ ان کی اکثریت شام کی اسلام پسند تنظیموں کے ساتھ مل کر شامی فورسز کیخلاف لڑنے کی نیت سے شام گئی ہے۔

ڈنمارک کے حساس ادارے ''پی ای ٹی'' نے اس بارے میں جاری کی گئی اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ ڈنمارک سے شام جانے کا سلسلہ گزشتہ سال کے وسط سے شروع ہوا تھا، جو ابھی تک جاری ہے۔ ان جنگجووں کی بڑی تعداد سنی مسلک سے تعلق رکھتی ہے۔

خفیہ ادارے کی رپورٹ کے مطابق ان ڈینش جنگجووں میں دو بہنیں جن کی عمر بالترتیب 16 اور 19 سال ہیں بھی اس مقصد کے لیے شام جا چکی ہیں۔ تاہم اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 30 سے 40 نوجوان شام سے واپس بھی آ چکے ہیں۔

یہ بھی بتایا گیا ہے کہ شام جانے والوں کی اکثریت اسلامی پس منظر رکھتی ہے یا ان کا ڈنمارک کے جرائم پیشہ گروہوں سے تعلق ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی رجحان ظاہر کیا گیا ہے کہ جرائم پیشہ نوجوان اسلام پسند اسلامی حلقوں میں شامل ہو رہے ہیں۔

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ نوجوانوں کی اس بھرتی کیلیے سوشل میڈیا بھی استعمال کیا جا رہا ہے، جبکہ سماجی طور پر کمزور طبقات سے تعلق رکھنے والے ان بھرتیوں کا خصوصی ہدف ہیں۔

حساس ادارے نے نوجوانوں میں اس رجحان کو سلامتی اور امن و امان کیلیے خطرہ قرار دیا ہے کیونکہ شام کا سفر کرنے والے نوجوان القاعدہ کے ساتھ رابطے میں آ چکے ہیں۔