.

بشارالاسد جنیوا دوم کانفرنس میں شرکت نہیں کریں گے:فرانس

ایران شامی مسئلے کے حل کے لیے امن مذاکرات میں شرکت کو تیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانسیسی وزیرخارجہ لوراں فابیئس کا کہنا ہے کہ شام میں جاری خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے جنوری میں جنیوا میں ہونے والی کانفرنس میں صدر بشارالاسد یا حزب اختلاف کے ریڈیکل گروپ شرکت نہیں کریں گے۔

انھوں نے فرانسیسی ریڑیو سے منگل کو گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''جنیوا دوم کانفرنس کا مقصد آرام دہ کرسیوں پر بیٹھ کر محض تبادلہ خیال کرنا نہیں ہے بلکہ اس کے دوران بشارالاسد کے بغیر حکومت کے نمائندوں اور اعتدال پسند حزب اختلاف کے درمیان عبوری حکومت کی تشکیل کے لیے باہمی سمجھوتا طے پانا ہوگا''۔

انھوں نے کہا کہ ''یہ فیصلہ تو بہت مشکل تھا لیکن یہی واحد حل تھا کہ اس میں مسٹر بشارالاسد اور دہشت گرد شرکت نہ کریں''۔وہ شامی فوج کے خلاف برسر پیکار جہادی گروپوں کو دہشت گرد قراردے رہے تھے۔

شام کے لیے اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے مشترکہ ایلچی الخضرالابراہیمی نے بتایا ہے کہ جنیوادوم کانفرنس کے شرکاء کی فہرست ابھی تیار نہیں کی گئی ہے لیکن مارچ 2011ء سے صدربشارالاسد کے خلاف جاری عوامی احتجاجی تحریک کے دوران یہ پہلا موقع ہوگا کہ شامی حکومت اور حزب اختلاف کے نمائندے آمنے سامنے بیٹھیں گے۔

درایں اثناء ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف نے کہا ہے کہ ایران کسی پیشگی شرط کے بغیر جنیوا دوم میں شرکت کے لیے تیار ہے۔انھوں نے سرکاری پریس ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مجوزہ کانفرنس میں ایران کی شرکت ہمارے نقطہ نظر سے شامی مسئلے کے حل کے لیے اہم ہے۔

ادھر شامی فوج کے خلاف برسرپیکار باغی جنگجوؤں اور منحرف فوجیوں پر مشتمل جیش الحر کے سربراہ جنرل سلیم ادریس کا کہنا ہے کہ ان کی وفادار باغی فورسز جنیوا مذاکرات میں شرکت نہیں کریں گی اور وہ بشارالاسد کو اقتدار سے نکال باہر کرنے کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گی۔

شامی حکومت نے گذشتہ روز امن کانفرنس کے حوالے سے اپنے پہلے ردعمل میں کہا تھا کہ وہ اس میں شرکت کے لیے تیار ہے۔ساتھ ہی اس نے یہ بھاشن بھی دیا تھا کہ ''شامی عوام کو مسلح دہشت گرد گروپوں سے بچانا اس کا فرض ہے''۔شامی حکومت باغیوں کو مزاحمت کار کے بجائے دہشت گرد قراردیتی چلی آرہی ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بین کی مون نے سوموار کو شام میں جاری خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے مجوزہ جنیوا دوم کانفرنس 22 جنوری 2014ء کو منعقد کرانے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ''یہ امن کانفرنس امید کا ایک مشن ہوگی اور ہم اسی مقصد کے لیے جنیوا جائیں گے''۔

مجوزہ کانفرنس جون 2012ء میں منعقدہ کانفرنس کا فالو اپ ہوگی۔اس سابقہ کانفرنس میں شریک ممالک نے شام میں ایک عبوری حکومت کی تشکیل پر زوردیا تھا اور اس میں طے شدہ سمجھوتے میں کہا گیا تھا کہ جنیوا میں آیندہ امن مذاکرات سے قبل فریقین قیام امن کے لیے اپنی ذمے داریوں کو پورا کریں گے۔