.

خامنہ ای کے مقرب اخبارات "جنیوا ڈیل" کی حمایت و مخالفت میں تقسیم

جواد ظریف اور جان کیری کے مصافحہ کو نمایاں جگہ دی گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

رواں ہفتے ایران اور چھے عالمی طاقتوں کے درمیان تہران کے متنازعہ جوہری پروگرام کے حوالے سے طے پانے والے "جنیوا معاہدے" پر ایرانی اخبارات نے ملا جلا ردعمل ظاہر کیا ہے۔ سپریم لیڈر اور رہبرِ انقلاب اسلامی آیت اللہ علی العظمی خامنہ ای کے مقرب سمجھے جانے والے اخبارات بھی"جنیوا معاہدے" کی حمایت اور مخالفت میں منقسم دکھائی دیے ہیں۔

سپریم لیڈر کے حمایت یافتہ اخبار"اطلاعات" نے اپنے اداریے میں جنیوا معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے اہم پیش رفت قرار دیا ہے جبکہ اسی حلقے کے ایک دوسرے کثیرالاشاعت روزنامہ"کیھان" نے معاہدے پر نکتہ چینی کرتے ہوئے لکھا ہے کہ "تہران سرکارعالمی طاقتوں کے فریب کا شکار ہوئی ہے۔"

یہاں یہ امر واضح رہے کہ ان دونوں اخبارات کے چیف ایڈیٹرز کی تقرری مرشد اعلیٰ براہ راست خود کرتے ہیں اور یہ پچھلے پچاس سال سے بکثرت شائع ہونے والے اخبارات سمجھے جاتے ہیں۔

اخبار"کیھان" نے اپنے اداریےمیں لکھا ہے کہ امریکا نے "جنیوا معاہدے" پر دستخط کے ایک گھنٹے بعد ہی اس کی مخالفت بھی کر دی ہے۔ اخبارات نے ایران کے لیے یورنیم افزودگی کی ضرورت و اہمیت پر بھی روشنی ڈالی ہے اور ساتھ ہی وزیر خارجہ جواد ظریف کا وہ بیان بھی نقل کیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ "عالمی برادری نے ایران کا جوہری توانائی کے حصول کا حق تسلیم کرلیا ہے"۔

اخبار مزید لکھتا ہے کہ امریکیوں نے جنیوا معاہدے کی سیاہی خشک ہونے سے قبل ہی اس کی مخالفت بھی کر ڈالی ہے کیونکہ امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے جنیوا اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ معاہدے کی چوتھی شق میں یہ بات شامل ہے کہ "معاہدہ جوہری عدم پھیلاؤ کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ فریق ثانی [ایران] کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دیتا ہے"۔

"کیھان" نے امریکیوں کو ناقابل اعتبار قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ امریکی جعلی مسکراہٹوں کے دھوکا اور فریب دیکرہمیں پھانسنا چاہتے ہیں۔ حکومت کو امریکی کے فریب کو سمجھنا ہو گا۔

اس کے مقابلے میں اخبار"اطلاعات" نے اپنے اداریے کے لیے"دنیا نے ایران کا جوہری حق تسلیم کرلیا" کی سرخی جمائی۔

اخبار نے وزیرخارجہ جواد ظریف کی تعریف وتوصیف میں ایک طویل قصیدہ لکھتے ہوئے انہیں "جنیوا معاہدے" کا "شہسوار" قرار دیا۔
اسی اخبار میں سابق ایرانی سفیر محمد صادق خرازی کا ایک مضمون بھی شامل ہے جس میں انہوں نے جنیوا معاہدے کوایران کی تزویراتی فتح قرار دیا ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ معاہدے کو ناکام بنانے والوں کے ہاتھ کاٹ دے۔

امریکا اور مغرب پر تنقید میں شہرت رکھنے والے اخبار"رسالت" نے بھی جنیوا معاہدے پر مثبت رد عمل ظاہر کیا ہے۔ اخبار لکھتا ہے کہ عالمی برادری نے ایران کے جوہری پروگرام کا حق تسلیم کرکے ظالمانہ پابندیاں لگانے والوں کی پیٹھ میں خنجر گھونپ دیا ہے۔

اصلاح پسندوں کے حامی اخبارات"اعتماد" اور"شرق" نے جنیوا ڈیل کی تعریف کے ساتھ ساتھ وزیر خارجہ جواد ظریف کی امریکی ہم منصب جان کیری کے ساتھ مصافحہ کی تصویرکو نمایاں جگہ دی۔ اس تصویر کے ساتھ ایران میں جشن کی تصویرکے نیچے دیے گئے ایک کیپشن میں"یہاں ایران میں بھی ہم سب خوش ہیں" کے الفاظ درج ہیں۔