.

انگولا: مساجد مسماری مہم کے بارے میں متضاد وضاحتیں

وزارت ثقافت نے مساجد کی بندش تسلیم کر لی: مسلمانوں میں ردعمل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انگولا میں اسلام کو ایک دین ماننے سے انکار اور مساجد کو مسمار کرنے پر انگولا حکومت کے اصرار کی خبروں پر اسلامی دنیا سے سامنے آنے والے ردعمل نے انگولا کو دفاعی پوزیشن لینے پر مجبور کر دیا ہے، تاہم عجلت میں جاری کردہ وضاحت میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ برائے مذہبی امور کے ذمہ دار اور وزارت ثقافت کے موقف میں واضح تضاد ہے۔

خاتون وزیر ثقافت کے کئی روز پہلے سامنے لائے گئے موقف پر وزارت ثقافت آج بھی لفظوں کے الٹ پھیر کے ساتھ قائم ہے، جبکہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ برائے مذہبی امور کی راویتی تردید کے باوجود حقائق ظاہر ہیں۔

مسلمانوں کے نمائندوں نے بھی انگولا حکومت کی وضاحت کو غلط قرار دیا ہے۔ انگولین مسلمانوں کے ایک ترجمان داود جاہ کے مطابق متعدد مسجدوں کی حکومت تالہ بندی کر چکی ہے، جبکہ سیاسی اور مذہبی انتقام کی یہ مہم ابھی جاری ہے۔

داود جاہ کے مطابق ''پچھلے ہفتے جنوبی شہر ہمبو میں ایک مسجد بند کر دی گئی ہے جبکہ دارالحکومت میں مسجدیں بند کرنے کیلیے اب بھی دباو موجود ہے۔''

واضح رہے مسیحی اکثریت کے افریقی ملک انگولا میں مذہبی تنظیموں اور اداروں کو سرکاری طور پر ایکریڈیشن کی ضرورت کا قانون بنایا گیا ہے، لیکن اس حوالے اب تک جن 83 باڈیز کو ایکریڈیشن دیا گیا ہے وہ ساری کی ساری عیسائی مذہب کی نمائندہ ہیں۔

مسلمانوں کی طرف سے اس قانونی تقاضے کو پورا کرنے کی خاطر ایکریڈیشن کیلے دی گئی مجموعی طور پر 194 درخواستیں وزارت انصاف کے پاس زیر التوا پڑی ہیں۔

مساجد کے بارے میں ماہ اکتوبر کے بعد سامنے آنے والی نئی پالیسی پر مسلم دینا اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے ردعمل کے اظہار کے بعد نیشنل انسٹی ٹیوٹ برائے مذہبی امور جو اس سے پہلے اس معاملے سے لاتعلق تھا کے ایک ڈائریکٹر مینوئل فرنانڈو نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے۔ '' انگولا میں اسلام یا کسی اور مذہب کیخلاف کوئی جنگ نہیں ہے۔''

وضاحت میں مزید کہا گیا '' اس سلسلے میں کوئی ایسا سرکاری موقف یا ہدف نہیں ہے جس کا مقصد مذہبی عبادت گاہوں کو مسمار کرنا ہو۔''

نیشنل انسٹی ٹیوٹ برائے مذہبی امور کی یہ وضاحت اسلامی تعاون کی تنظیم کی طرف سے ردعمل سامنے آنے پر پیش کی گئی ہے۔ مصری علماء نے بھی انگولا میں مساجد مسمار کرنے کی مہم کو اشتعال انگیزی قرار دیا ہے۔

دوسری جانب انگولا کی وزارت ثقافت نے بالواسطہ طور پر مساجد کی بندش اور مسماری مہم کو تسلیم کر لیا ہے۔ وزارت ثقافت کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ''مسجدوں کی بندش قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی وجہ سے ہوئی ہے۔ مساجد کے پاس تعمیر کا سرکاری جواز اور دیگر دستاویزات ہونا ضروری ہے۔''