.

رفسنجانی کا ایران اور سعودی عرب میں دوستانہ تعلقات کے قیام کا عندیہ

"شامی تنازع کے حل میں تہران اہم کردار ادا کر سکتا ہے"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سابق صدر اور گارڈین کونسل کے سربراہ علی اکبر ہاشمی رفسنجانی نے سعودی عرب کے ساتھ دوستانہ تعلقات کے قیام کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا ملک ریاض کے ساتھ خوشگوار تعلقات استوار کرنے کی مساعی جاری رکھے گا۔

ایک انٹرویو میں مسٹر رفسنجانی کا کہنا تھا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے، دوطرفہ کشیدگی کے خاتمے اور دونوں ملکوں کے مشترکہ مفادات کے لیے مساعی جاری رکھی جانی چاہئیں۔

ایک سوال کے جواب میں سابق ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ سعودی عرب اور تہران کے درمیان تنازعہ صرف ایران کے جوہری پروگرام تک محدود نہیں بلکہ علاقائی اورعالمی مسائل پردونوں ملکوں کے الگ الگ موقف بھی کشیدگی کا ایک بڑا محرک ہیں۔ ان میں شام کا مسئلہ سر فہرست ہے۔

سابق صدر نے ایرانی حکومت پر زور دیا کہ وہ سعودی عرب سے براہ راست رابطے بحال کرنے کی کوشش کرے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اور سعودی عرب کے مابین دوستی نہ صرف دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے بلکہ پورے خطے کے لیے نہایت اہمیت کی حامل ہے۔

شام کے بحران کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں علی اکبر ھاشمی رفسنجانی نے کہا کہ ان کا ملک شام کے بحران کے حل میں کلیدی کردار ادا کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر بشارالاسد کے مستقبل کے بارے میں فیصلہ باہر سے نہیں بلکہ شامی عوام پر چھوڑ دیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اگر شامی عوام بشارالاسد کو اقتدار سے ہٹانے پر متفق ہو تو تہران کو اس میں مداخلت کا کوئی حق نہیں پہنچتا۔ ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان تہران کے جوہری پروگرام پر ہوئے معاہدے سے متعلق سوال کے جواب میں مسٹر رفسنجانی کا کہنا تھا کہ ان کا ملک جوہری اسلحہ کے پھیلاؤ کی شرط کی پابندی کرے گا مگر دوسری شرائط معاہدے سے باہر ہیں، ان کی پابندی ضروری نہیں ہے۔