.

سعودی عرب میں غیر قانونی مقیم 50 ہزار ایتھوپیائی بے دخل

حجازسے پروازوں کے ذریعے غیرقانونی تارکین وطن کی واپسی کا عمل جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں مقیم غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کریک ڈاؤن کے دوران ایتھوپیا کے پچاس ہزار شہریوں کو بے دخل کیا گیا ہے۔

ایتھوپیا کی وزارت خارجہ کی ترجمان ڈینا مفتی نے بدھ کو ایک بیان میں بتایا ہے کہ ''ہم نے سعودی عرب میں غیر قانونی طور پر مقیم اپنے شہریوں کی تعداد کا اندازہ دس ہزار لگایا تھا لیکن یہ تعداد اب بڑھتی جارہی ہے اور وہاں سے طیاروں کے ذریعے واپس لائے جانے والے ایتھوپیائی شہریوں کی تعداد اسّی ہزار کے لگ بھگ ہونے کی توقع ہے''۔

ایتھوپیا نے سعودی عرب کی جانب سے غیر قانونی تارکین وطن کے لیے سات ماہ کی رعایتی مدت کے 4 نومبر کو خاتمے کے بعد اپنے شہریوں کی واپسی کا عمل شروع کیا تھا۔اس دوران ایتھوپیا کے غیر قانونی تارکین وطن اور سعودی پولیس کے درمیان جھڑپوں کی بھی اطلاعات ملی ہیں اور ان میں تین ایتھوپیائی باشندے ہلاک ہوگئے ہیں۔

خاتون ترجمان نے بتایا کہ ان کی حکومت سعودی عرب سے اپنے شہریوں کی واپسی کے پروگرام پر چھبیس لاکھ ڈالرز خرچ کررہی ہے اور سعودی عرب میں غیر قانونی طور پر مقیم ایتھوپیائی باشندوں میں اکثریت عورتوں کی ہے۔

سعودی عرب اور دوسری خلیجی ریاستوں میں ایتھوپیائی عورتوں کی بڑی تعداد گھریلو کام کاج کرتی ہے۔ایتھوپیا کی وزارت محنت اور سماجی بہبود کے فراہم کردہ اعدادوشمار کے مطابق سال 2012ء میں دولاکھ کے لگ بھگ خواتین نے بیرون ملک ملازمت کے لیے جانے کی غرض سے درخواستیں دی تھیں۔

عالمی ادارہ محنت (آئی ایل او) کا کہنا ہے کہ ان میں سے بہت سی عورتوں کو جسمانی اور ذہنی تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے،انھیں کم تنخواہیں دی جاتی ہیں،ان سے امتیاز برتا جاتا ہے اور ان کے لیے حالات کار بھی کوئی بہتر نہیں ہوتے۔

سعودی عرب میں ایتھوپیائی باشندوں کے ساتھ ناروا سلوک پر ان کے ملک میں احتجاجی مظاہرے بھی کیے گئے تھے۔اس ملک کے وزیر خارجہ ٹیڈروس اعظنم نے اسی ماہ ایک موقع پر جذباتی انداز میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ''حکومت چوبیس گھنٹے مسلسل کرائسس مینجمنٹ کا کام کررہی ہے اور اپنے شہریوں کو واپس لانے کے لیے کوشاں ہے''۔

واضح رہے کہ ایتھوپیا کی آبادی قریباً نو کروڑ دس لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔یہ نائیجیریا کے بعد براعظم افریقہ کا دوسرا بڑا گنجان آباد ملک ہے لیکن یہ اس براعظم کا غریب ترین ملک بھی ہے اور اس کی آبادی کی اکثریت دو ڈالرز سے بھی کم پرروزانہ گزارا کرتی ہے۔آئی ایل او کے اعدادوشمار کے مطابق اس ملک کی 27 فی صد خواتین اور 13 فی صد مرد بے روزگار ہیں۔