.

گرفتاری سے بچنے کے لئے تارکین وطن کی خواتین یونیورسٹی میں 'پناہ'

تارکین وطن کو خوراک فراہمی پر جیل انتظامیہ کے 10 لاکھ ریال یومیہ خرچ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں درست دستاویزات نہ رکھنے والے غیرملکیوں کا تعاقب اور ان کے اخراج کا عمل جاری ہے، لیکن غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف جاری آپریشن حکومت کو مہنگا بھی پڑ رہا ہے۔ حکام کے مطابق حراست میں لیے گئے غیر قانونی تارکین وطن کے طعام وقیام پر یومیہ ایک ملین ریال کی رقم صرف کرنا پڑ رہی ہے۔

ادھر ایک دوسری پیش رفت میں مدینہ منورہ میں غیرملکیوں کے خلاف آپریشن کے دوران ایتھوپیا سے تعلق رکھنے والے کئی افراد خواتین یونیورسٹی کی دیواریں پھلانگ کر اندر چلے گئے تاہم سیکیورٹی حکام نے ان میں سے پندرہ فراد کو حراست میں لے لیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق حکام کی تحویل میں موجود غیر قانونی تارکین وطن کے لیے روزانہ ایک وقت میں کم سے کم ایک لاکھ 20 ہزارافراد کو کھانا فراہم کیا جا رہا ہے، جس پر کم سے کم ایک ملین ریال خرچ آتا ہے۔

ریاض حکام کا کہنا ہے کہ غیر ملکیوں ساتھ کسی قسم کی ناانصافی نہیں کی جا رہی ہے بلکہ سیکیورٹی مراکز میں خود کو رضاکارانہ طور پر پولیس کے حوالے کرنے والے یا تعاقب کے بعد پکڑے جانے والے تمام افراد ایک ساتھ رکھے گئے ہیں اور سب کو یکساں طعام وقیام کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔

ڈائریکٹوریٹ جنرل برائے جیل خانہ جات کے ترجمان کیپٹن عبداللہ ناصر نے "العربیہ" کو بتایا کہ حراست میں رکھے گئے غیر ملکی تارکین وطن کو انواع اوقسام کے کھانے مہیا کیے جا رہے ہیں۔ یہ لوگ جب تک ہمارے پاس ہیں، ہمارے مہمان ہیں۔ ہم ان کی ان کے ملکوں میں واپسی کا انتظام کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں ان کے ملکوں کے قونصل خانوں اور سفارت خانوں میں ان کے کاغذات کی تیاری کی تکمیل تک ہم ان کی خدمت کرتے رہیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ تمام محروسین کو صاف ستھری رہائش بھی فراہم کی گئی ہے اور روزانہ تین اوقات کا کھانا فراہم کیا جاتا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں عبداللہ ناصر کا کہنا تھا کہ انہیں یومیہ ایک لاکھ بیس ہزار افراد کے لیے طعام کا بندو بست کرنا ہوتا ہے، جس پرکم سے کم دس لاکھ ریال خرچ آتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اب تک غیرملکی تارکین وطن کے طعام وقیام کے لیے ملک بھرمیں 39 مرکز قائم کیے گئے ہیں۔

خواتین یونیورسٹی میں پناہ!

درایں اثناء سعودی عرب کے شہر مدینہ منورہ میں غیرملکیوں کے خلاف جاری پولیس کے سرچ آپریشن کےدوران ایتھوپیا سے تعلق رکھنے والے درجنوں افراد نے الطیبہ ویمن یونیورسٹی پر دھاوا بول دیا۔ غیر قانونی تارکین وطن یونیورسٹی کی دیوار پھلانگ کراندر داخل ہو گئے جس پر یونیورسٹی انتظامیہ کو تعلیمی سلسلہ روکنا پڑا۔ تاہم سیکیورٹی حکام اور پولیس نے بروقت کارروائی کرکے جامعہ کی دیواریں پھلانگنے والے کم سے کم پندرہ ایتھوپیائی باشندوں کو حراست میں لیے لیا ہے۔

مدینہ منورہ میں پولیس کےترجمان کرنل فہد الغنام نے بتایا کہ ایتھوپیا سے تعلق رکھنے والے غیر قانونی تارکین وطن کو ایک جگہ جمع کیا گیا تھا لیکن وہ وہاں سے فرار کے بعد قریب ہی ایک خواتین یونیورسٹی میں دخل ہو گئے، جس پر پولیس نے کارروائی کرکے یونیورسٹی کے احاطےمیں پہنچنے والے پندرہ غیرملکیوں کو حراست میں لے لیا ہے۔

غیر ملکیوں کی ان کے وطن واپسی میں تاخیر کے بارے میں پولیس ترجمان کا کہنا تھا کہ ان لوگوں کی اپنے ملکوں کو واپسی میں تاخیر ہماری جانب سے ہو رہی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ایتھوپیا سے بڑی تعداد میں لوگ یہاں غیرقانونی طور پر قیام پذیرہیں۔ ان کے کاغذات کی تیاری میں وقت لگ رہا ہے، جن لوگوں کے کاغذات مکمل ہوجاتے ہیں انہیں فوری طور پر 'ڈی پورٹ' کر دیا جاتا ہے۔