العربیہ یواے ای میں اخوان المسلمون سے متعلق فلم نشر کرے گا

دستاویزی فلم میں اخوانی کارکنوں کے اعترافی بیانات اور دستاویزات شامل ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

العربیہ نیوز چینل آیندہ اتوار کو متحدہ عرب امارات میں اخوان المسلمون کی شاخ کے بارے میں دستاویزی فلم نشر کرے گا جس میں اس تنظیم کے بعض خفیہ گوشے پہلی مرتبہ منظرعام پر لائے گئے ہیں۔

اخوان سے متعلق ''دا روڈ ٹو جولائی سیکنڈ'' نامی فلم جنیوا میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم انٹرنیشنل گلف آرگنائزیشن (آئی جی او) نے 22 نومبر کو ایک نیوز کانفرنس کے دوران جاری کی تھی اور العربیہ ٹی وی چینل نے اس کو نشر کرنے کے حقوق حاصل کر لیے ہیں۔

یہ دستاویزی فلم دو حصوں پر مشتمل ہے۔اس کا پہلا حصہ یواے ای میں اخوان کے خفیہ گروپ کے قیام سے متعلق ہے اور اس میں بتایا گیا ہے کہ اس نے کیسے گذشتہ دس سال سے اپنی سرگرمیاں جاری رکھی ہوئی تھیں اور پھر امارات کی سکیورٹی ایجنسیوں نے اس کو توڑ دیا۔

دوسرے حصے میں گروپ کے گرفتار کیے گئے افراد کے خلاف ٹرائل کی تفصیل بیان کی گئی ہے اور یہ تمام تفصیل ان کے بیانات ،اعترافات ،گواہوں کی شہادتوں اور ان پر عاید کیے گئے الزامات پر مبنی ہے۔

آئی جی او کے ڈائریکٹر منصور لوطا کا کہنا ہے کہ ''ہم گذشتہ مہیںوں سے اس خفیہ تنظیم کے ٹرائل کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے تھے۔ہم ٹرائل کے بعد سامنے آنے والے الزامات سے بھی بخوبی آگاہ تھے۔یواے ای میں اس طرح کا ٹرائل پہلی مرتبہ ہوا ہے اور بہت سی مقامی اور بین الاقوامی تنظیموں کی توجہ اس پر مرکوز رہی ہے''۔

اس دستاویزی فلم میں اماراتی اخوان کے ارکان سے حاصل کردہ دستاویزات ،دستخط شدہ اعترافی بیانات اور ویڈیو کلپس بھی شامل ہیں۔اس فلم کے مصنف اور ڈائریکٹر علی الجابری نے بتایا ہے کہ اس میں جتنا بھی ریکارڈ استعمال کیا گیا ہے،وہ تمام مقدمے کی فائلوں کا حصہ ہے اور ہم اس بات کو یقینی بنانا چاہتے تھے کہ تمام متعلقہ فریقوں کو کسی قسم کی پابندیوں سے ماورا بیان دینے کی آزادی ہو۔

العربیہ نیوز چینل اس دستاویزی فلم کے پہلے حصے کو اتوار یکم دسمبر کو یواے ای کے وقت کے مطابق 20.00 بجے (16.00 بجے گرینچ معیاری وقت) نشر کرے گا اور دو دسمبر کو صبح دوبجے نشرمکرر کے طور پر چلائے گا۔فلم کا دوسرا حصہ 8 دسمبر کو انہی اوقات میں نشر کیا جائے گا۔اس دستاویزی فلم کا انگریزی میں سب ٹائٹل ورژن العربیہ کی نیوز ویب سائٹ پر بھی دستیاب ہوگا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں