توہین رسالت کے خلاف عالمی قانون بنایا جائے: حرمت انبیاء کانفرنس

"شاتمین رسول کو دانشمندی اور اخلاقی جرات سے جواب دیا جائے"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سعودی عرب کے شہرمدینہ منورہ میں منعقدہ تین روزہ "حرمت انبیاء کانفرنس" کے اختتام پر بزرگ ہستیوں کی توہین کو قابل مواخذہ جرم قرار دیتے ہوئے اس کی روک تھام کے لیے عالمی سطح پر قانون سازی کا مطالبہ کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے عالمی کانفرنس کے اختتام پر جاری اعلامیہ کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ انبیا علیہم السلام کی توہین ناقابل معافی جرم قرار دلوانے کے لیے عالمی سطح پر ایک مشترکہ "میثاق" کیا جائے تاکہ آئندہ ایسی مجرمانہ حرکتوں کا سد باب کیا جا سکے۔

اعلامیے میں نبی آخر الزماں علیہ السلام کی عزت و ناموس کو یقینی بنانے کے لیے خاص طور پر زور دیتے ہوئے کہا گیا کہ "حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت کے لیے نہ صرف مسلمان بلکہ پوری دنیا کے مذاہب ایک معاہدہ کریں جس میں آخری پیغمبر کی توہین کو ناقابل معافی جرم قرار دیا جائے۔

کانفرنس میں سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کی نگرانی میں ناموس رسول کو یقینی بنانے کے لیے ایک مرکز کے قیام کی بھی تجویز دی گئی جس کی سربراہی ولی عہد شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز کو سونپے جانے کی سفارش کی گئی۔ قرارداد میں کہا گیا کہ حرمت رسول مرکز میں ایسا لٹریچر تیار کیا جائے جو اسلام سے بیزار طبقات بالخصوص شاتمین رسول کی گستاخیوں کا مدلل جواب بن سکے۔

عالمی اسلامی کانفرنس میں انبیا کی توہین کرنے پر مسلمانوں کے تخریبی ردعمل کی بھی مذمت کی گئی۔ بیان میں کہا گیا کہ گستاخان رسول کے مجرمانہ اقدامات پر مسلمانوں کو احتجاج کا حق حاصل ہے مگر احتجاج کی آڑ میں قومی املاک کو نقصان پہنچانا اور توڑ پھوڑ کرنا دانشمندی نہیں ہے۔ اس طرح کی کارروائیوں سے اسلام کی ساکھ کو الٹا نقصان پہنچتا ہے۔

کانفرنس میں کہا گیا کہ نبی کے گستاخوں کو فوری قتل کرنے کی بات کرنے کے بجائے اسلام کے اخلاقی اصولوں کےمطابق دلیل سے سمجھانے اور دانشمندانہ انداز اختیار کر کے انہیں قائل کرنے کی کوشش کی جائے۔ کانفرنس میں مسلمان ملکوں کے الیکٹرنک اور پرنٹ میڈیا سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ دنیا کے سامنے اسلام کی حقیقی تصویر پیش کریں اور اخلاق محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو عام کرنے کی کوشش کریں۔

مقبول خبریں اہم خبریں