یمن: حوثیوں نے سیاسی مخالفین کو صنعاء اسپتال سے اغوا کر لیا

اغواء کار فوجی اہلکاروں کے بھیس میں اسپتال میں داخل ہوئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن میں حوثی باغیوں کے ساتھ لڑائی میں زخمی ہونے والے ان کے سیاسی مخالفین کو دارلحکومت صنعاء کے ایک اسپتال سے اغوا کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کئے جانے کی اطلاعات ہیں۔ العربیہ ذرائع کے مطابق ایران نواز حوثی جنگجو یمنی فوج کی وردی میں اسپتال میں آ دھمکے اور وہاں زیر حراست سلفی زخمیوں کو اٹھا کر لے گئے۔

رپورٹ کے مطابق صنعاء کے اسپتال میں زیرعلاج زخمی سلفی گذشتہ ہفتے شمالی یمن کے شہر دماج میں حوثیوں کے ساتھ جھڑپ میں زخمی ہوئے تھے، جس کے بعد مقامی عمائدین اور حکومت کی مساعی سے فریقین نے فائر بندی کا معاہدہ بھی کر لیا تھا۔

یمنی ایوان صدر کی جانب سے متحارب گروپوں میں صلح کے لیے قائم کردہ کمیٹی کے چیئرمین یحیٰی منصور ابو اصبع نے بتایا کہ دماع اور شورش زدہ علاقے الصعدہ میں فوج کی نگرانی بڑھا دی گئی ہے اور جنگ بندی معاہدے کی پابندی کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

منصور اصبع نے بتایا کہ حوثی شدت پسند اور سلفی باہمی لڑائی میں ایک دوسرے کے خلاف بھاری اسلحہ بھی استعمال کرتے رہے ہیں جن میں توپ خانے سے گولہ باری بھی شامل ہے تاہم اب فائرنگ بند ہو چکی ہے اور حالات آہستہ آہستہ معمول پر آنا شروع ہو گئے ہیں۔

خیال رہے کہ چند ہفتے قبل ایرانی کے حامی حوثی قبائل نے سعودی عرب کی سرحد سے متصل ضلع الصعدہ کے بیشتر پہاڑی علاقوں پر قبضہ کرکے سلفی شدت پسندوں کو وہاں سے نکال دیا تھا۔ رواں ماہ کے آغاز میں حوثیوں اور سلفی مسلک کے حامیوں کے مابین خون ریز لڑائی میں درجنوں افراد مارے گئے تھے۔ حکومت نے متحارب گروپوں میں صلح کرانے کے لیے ایک کمیٹی بھی تشکیل دی تھی جس کی مساعی سے فریقین نے عارضی طور فائر بندی قبول کر لی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں