لیبیا میں پہلے عثمانی گورنر"مراد آغا" کا مزار بم دھماکے سے متاثر

وزیر اعظم نے مزار پر حملے کو دہشت گردی قرار دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

لیبیا کے دارالحکومت طرابلس کے قریب نامعلوم حملہ آوروں نے خلافت عثمانی کے پہلے گورنر احمد مراغ آغا کے مزار قریب ایک دھماکہ کیا ہے جس کے نتیجے میں مزار کی بیرونی دیواروں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

دوسری جانب وزیر اعظم علی زیدان نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے دہشت گردی کی کارروائی قرار دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ احمد مراغ آغا مرحوم کے مزار پرحملہ کرنے والے لیبیا کی تاریخ مسخ کرنا چاہتے ہیں۔ انہیں کیفر کردار تک پہنچائے جانے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق طرابلس کے نواحی قصبے "تاجورا" میں واقع مزار کو نقصان پہنچنے کے بعد لیبی وزیراعظم نے تاجورا کے شہریوں اور ترک عوام سے بھی حملےپر دکھ کا اظہار کیا ہے۔

خیال رہے کہ احمد مراغ آغا سنہ 1551ء میں خلافت عثمانیہ کے پہلے گورنر تھے جنہیں صلیبی جنگوں کے اختتام اور عیسائی شدت پسند تنظیم "Sovereign Military Order of Malta" سے آزادی دلانے کے بعد لیبیا کا حاکم [گورنر] تعینات کیا گیا تھا۔ انہوں نے "تاجورا" کو اپنا مرکز بنایا جہاں ایک بڑی جامع مسجد بھی انہی کے نام سے آج بھی موجود ہے۔ مراد آغا اسی مسجد کے پہلو میں آسودہ خاک ہیں۔ وفات کے بعد ان کی قبر پرایک مزار بنایا گیا تھا۔

جامع مسجد مراد آغا کے خطیب کا کہنا ہے کہ مسجد کے بیرونی احاطے میں لگے خفیہ کیمرے دو روز قبل فنی خرابی کے باعث کام کرنا چھوڑ گئے تھے، تاہم مقامی امن کونسل کا کہنا ہے کہ وہ اس امر کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ مسجد کے باہر سیکیورٹی کا انتظام کیوں نہیں تھا اور خفیہ کیمرے کیسے خراب ہوئے تھے؟

مقبول خبریں اہم خبریں