ایران کی آئی اے ای اے کو جوہری تنصیب کے معائنے کی دعوت

عالمی انسپکٹراگست 2011ء کے بعد 8 دسمبر کو آراک کے معائنے کے لیے آئیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران نے جوہری توانائی کے عالمی ادارے (آئی اے ای اے) کو آراک میں واقع بھاری پن کے ری ایکٹر کے معائنے کی دعوت دی ہے اور کہا ہے کہ وہ اپنے معائنہ کاروں کو8 دسمبر کو اس تنصیب کے معائنے کے لیے بھیجے۔

ویانا میں قائم آئی اے ای اے کے سربراہ یوکی یا امانو نے بدھ کو ایک بیان میں اس امر کی تصدیق کی ہے کہ انھیں ایران کی جانب سے آراک میں واقع بھاری پن کے پروڈکشن پلانٹ کے معائنے کی دعوت موصول ہوگئی ہے اور انھوں نے اس حوالے سے ادارے کے بورڈ کو مطلع کردیا ہے۔

اگر آئی اے ای اے کے انسپکٹر اس جوہری تنصیب کے معائنے کے لیے آتے ہیں تو اگست 2011ء کے بعد اس کا یہ پہلا معائنہ ہوگا۔واضح رہے کہ اس جوہری تنصیب کے بارے میں عالمی طاقتیں اپنی تشویش کا اظہار کرتی رہی ہیں کیونکہ ایران اس ری ایکٹر میں استعمال کیے جانے والے ایندھن سے جوہری بم کی تیاری کے لیے درکار پلوٹونیم حاصل کرسکتا ہے۔

ایران نے چھے بڑی طاقتوں کے ساتھ گذشتہ اتوار کو جنیوا میں طے پائے سمجھوتے میں اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ وہ آیندہ چھے ماہ کے دوران اس ری ایکٹر پر کام کرے گا اور نہ اس ری ایکٹر کی جگہ پر ایندھن یا بھاری پانی کو منتقل کرے گا۔

اس سمجھوتے کے تحت ایران اضافی ایندھن کی تیاری کا تجربہ بھی نہیں کرے گا اور نہ مزید ایندھن پیدا کرے گا۔نیز وہ جوہری تنصیب میں باقی ماندہ آلات نصب نہیں کرے گا۔آئی اے ای اے انسپکٹر ماضی میں آراک میں واقع جوہری تنصیب کی جگہ کا معائنہ کرچکے ہیں لیکن اس ادارے کا کہنا ہے کہ ایران نے 2006ء کے بعد اس کے ڈیزائن کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم نہیں کی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں