.

امریکا شام کے کیمیائی ہتھیار سمندر برد کرے گا:او پی سی ڈبلیو

قریباً 1000ٹن کیمیائی مواد کو بحری جہاز کے ذریعے سمندر کی نذر کیا جائے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ہیگ میں قائم کیمیائی ہتھیاروں کے امتناع کی تنظیم (او پی سی ڈبلیو) نے کہا ہے کہ امریکا شام کے خطرناک کیمیائی ہتھیاروں کو بحری جہاز کے ذریعے بین الاقوامی پانیوں میں ٹھکانے لگائے گا۔

اوپی سی ڈبلیو نے ہفتے کے روز جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکا کا ایک بحری جہاز اس مقصد کے لیے تیار کیا جارہا ہے اور کیمیائی ہتھیاروں کو ہائیدرالسیس عمل کے ذریعے تباہ کیا جائے گا۔

اس بیان کے مطابق شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو پہلے سے طے شدہ ڈیل کے تحت 31 دسمبر تک بیرون ملک منتقل کیا جائے گا اور اس کے بعد امریکی بحری جہاز کے ذریعے ان میں سے ترجیحی کیمیائی ہتھیاروں کو تباہ کیا جائےگا۔او پی سی ڈبلیو کے ترجمان مائیکل لوہان نے اس تمام آپریشن میں استعمال کیے جانے والے بحری جہاز کا نام بتانے سے گریز کیا ہے۔

شام کے بیرون ملک منتقل کیے جانے والے خطرناک کیمیائی ہتھیاروں کو اپریل 2014ء تک ٹھکانے لگایا جائے گا اور باقی ہتھیاروں کو آیندہ سال کے وسط تک تلف کیا جائے گا۔تاہم ان کم خطرناک ہتھیاروں کو تباہ کرنے کے لیے دوسرے ممالک کے حوالے کیا جا سکتا ہے۔

اوپی سی ڈبلیو نے اپنے بیان میں مزید بتایا ہے کہ پینتیس تجارتی کمپنیوں نے کم خطرناک اور کم ترجیح والے ہتھیاروں کو ٹھکانے لگانے کی پیش کش کی ہے۔تنظیم کے ڈائریکٹر احمد ازمچو کا کہنا ہے کہ ان تمام کے جائزے کے بعد کسی مناسب کمپنی کا انتخاب کیا جائے گا۔تاہم ہتھیاروں کو ٹھکانے کے لیے بولی دینے والی کمپنیوں کے لیے ماحولیات کے تحفظ سے متعلق قومی اور بین الاقوامی معیارات پر پورا اُترنا ہوگا۔

ماہرین اس سے پہلے اس تشویش کا اظہار کرچکے ہیں کہ کیمیائی ہتھیاروں کو سمندر برد کرنے سے خطرات لاحق ہوسکتے ہیں اور زہریلے مادے سطح آب پر آسکتے ہیں لیکن شامی ہتھیاروں کے بارے میں عالمی سطح پر تشویش کے باوجود کسی بھی ملک نے ان کو اپنی سرزمین پر ٹھکانے لگانے کی ہامی نہیں بھری۔

شام اپنے ہتھیاروں کو ٹھکانے لگانے کے لیے اقوام متحدہ اور اوپی سی ڈبلیو کے مشن سے تعاون کررہا ہے اور وہ پہلے بتا چکا ہے کہ اس کے پاس 1290 ٹن کیمیائی ہتھیار اور ان کے مشمولات ہیں۔ان کے علاوہ اس کے پاس ایک ہزار سے زیادہ نامکمل کیمیائی ہتھیار،گولے ،راکٹ اور مارٹر گولے وغیرہ ہیں۔

مذکورہ مشن اکتوبر سے شام میں کیمیائی ہتھیاروں کا سراغ لگانے اور ان کی جگہوں کو تباہ کرنے کے لیے کام کررہا ہے۔اس مشن نے گذشتہ ماہ تمام کیمیائی ہتھیاروں کا سراغ لگا کر انھیں سربہ مہر کردیا تھا اور ان کی تیاری کی جگہوں اور تنصیبات کو تباہ کردیا تھا۔

اوپی سی ڈبلیو کی ایگزیکٹو کونسل نے نومبر کے آغازمیں شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو 2014ء کے وسط تک شام سے باہر لے جانے کے لیے حتمی لائحہ عمل کی منظوری دی تھی۔اب تنظیم کے رکن ممالک ان کو تلف کرنے کے لیے قواعد وضوابط کو حتمی شکل دے رہے ہیں،اس حوالے سے 17 دسمبر کو کونسل کے اجلاس میں فیصلہ کیا جائے گا۔