.

لیبیا میں "یو این" امن مشن کےغیر ملکی سیکیورٹی عملے پر ایک نیا تنازعہ

دفاترکی نگرانی کے لیے 235 غیرملکی سیکیورٹی اہلکار تعیناتی کی تجویز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا میں اقوام متحدہ کے امن مشن کی سیکیورٹی کے لیے غیرملکی سیکیورٹی عملے کو طرابلس بھجوانے کی تجویز پر ملک کے سیاسی اورابلاغی حلقوں میں ایک نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔ لیبی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ یو این امن مشن کو اپنی سیکیورٹی کے لیے عالمی امن دستےمنگوانے کا حق حاصل ہے کیونکہ لیبیا اور سلامتی کونسل کے درمیان طے پائےمعاہدے میں یہ بات بھی شامل ہے تاہم سیکیورٹی اہلکاروں کو اپنی حدود سے تجاوز کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کےمطابق اگرچہ تاحال سلامتی کونسل نے طرابلس میں اپنے ہائی کمیشن کی سیکیورٹی کے لیے بیرون ملک سے حفاظتی عملہ روانہ نہیں کیا ہے اور سیکیورٹی کے تمام فرائض لیبی پولیس ہی ادا کر رہی ہے۔ تاہم اس سلسلے میں سلامتی کونسل میں ابتدائی تجویز ہی سامنے آئی ہے۔ حتمی فیصلہ سیکرٹری جنرل بین کی مون کریں گے کہ لیبیا میں غیر ملکی امن دستوں کی تعیناتی کی ضرورت ہے یا نہیں۔

"یو این" کی جانب سے حتمی فیصلہ نہ ہونے کے باوجود لیبیا کے بعض سیاسی حلقوں اور سوشل میڈیا پراس پر بحث جاری ہے۔ سوشل میڈیا اور روایتی سیاسی حلقے غیرملکی سیکیورٹی عملے کی طرابلس روانگی کی حمایت اور مخالفت میں منقسم ہیں۔ تاہم بعض مبصرین کا خیال ہےکہ اقوام متحدہ کے امن دستوں کی تعیناتی سےقبل حکومت کو چند واضح شرائط طے کرلینی چاہئیں۔

لیبیا میں اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن کی جانب سے جاری ایک وضاحتی بیان میں ملک میں جاری متنازعہ بحث کوختم یا کم سے کم کرنے کی کوشش کی ہے۔ بیان میں یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ امن دستوں کا مشن اور ان کا دائرہ اختیار نہایت محدود ہو گا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ طرابلس میں اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن کے لیے235 اہلکاروں پر مشتمل اضافے عملے کی ضرورت ہے۔ ان میں تمام افراد سیکیورٹی سے متعلق نہیں بلکہ انتظامی عملے افراد بھی ہوں گے۔ سیکیورٹی عملے کی ذمہ داری صرف ہائی کمیشن کے دفاتر اور ہائی کمیشن کے عہدیداروں کی رہائش گاہوں کی حفاظت تک محدود ہو گی۔

لیبیا میں اقوام متحدہ کے غیرملکی سیکیورٹی عملے کی مخالفت کرنے والوں کا خیال ہے کہ اس طرح لیبیا میں غیرملکی افواج کی تعیناتی کی راہ ہموارہوگی۔ اقوام متحدہ کے بعد کئی دوسرے ادارے اورممالک بھی اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے عالمی امن دستوں کی تعیناتی کامطالبہ کرسکتےہیں۔ مخالفین کا مزید کہنا ہے کہ سابق مرد آہن مقتول کرنل معمر قذافی کی حکومت کے خاتمے کےبعد سے اب تک اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن کی سیکیورٹی کی ذمہ داریاں لیبی اہلکار ہی نھبا رہے ہیں۔ طرابلس اور ملک کے دیگر شہروں میں موجود اقوام متحدہ کے دفاتر پرحملوں کا کوئی ایک بھی ناخوش گوار واقعہ پیش نہیں آیا ہے۔ جب لیبی سیکیورٹی فورسز احسن طریقے سے اپنے فرائض انجام دے رہی ہیں تو بھلا غیرملکی امن دستوں کی تعیناتی کی ضرورت کیوںکر پیش آ رہی ہے۔

لیبیا کے عوامی اور سماجی حلقوں میں یہ تاثر بھی عام ہے کہ ملک میں امریکی "سی آئی اے" کے اہلکار بھی سرگرم ہیں۔ گذشتہ مہینے القاعدہ لیڈر ابو انس اللیبی کی طربلس سے امریکی کمانڈوز کے ہاتھوں خفیہ آپریشن میں گرفتاری اور راز داری میں بیرون ملک منتقلی کے بعد غیرملکی عناصرکی ملک میں موجودگی کے تاثرکو مزید تقویت ملی ہے۔