.

گوانتا ناموبے میں قید دو الجزائریوں کا وطن واپسی سے انکار

ایک قیدی بوسنیا اپنے خاندان کے پاس اور دوسرا کینیڈا جانے کا خواہاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے کیوبا میں واقع جزیرے گوانتا ناموبے میں قائم بدنام زمانہ عقوبت خانے میں قید دو الجزائریوں نے رہائی کی صورت میں اپنے آبائی وطن جانے سے انکار کردیا ہے۔انھوں نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ امریکا سے منتقلی پر انھیں الجزائرمیں تشدد کا نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔

ان دونوں میں سے ایک الجزائری کے وکیل رابرٹ کرش نے امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان ، محکمہ خارجہ اور واشنگٹن میں الجزائری سفارت خانے سے مطالبہ کیا ہے کہ ان دونوں قیدیوں کو ان کی خواہش کے برعکس ان کے آبائی وطن میں واپس بھیجنے سے گریز کیا جائے۔

پینٹاگان کے ایک ترجمان ٹاڈ بریسیل نے ان قیدیوں کی گوانتا نامو بے سے رہائی اور امریکا سے منتقلی کی تصدیق تو نہیں کی،البتہ یہ کہا ہے کہ ''ہم منتقل کیے جانے والے ہر فرد کے بارے میں اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ وہ امریکی حکومت کی انسانی حقوق اور معیارات کی پالیسی اور تشدد کے خلاف کنونشن کے عین مطابق ہو''۔

انھوں نے کہا کہ ''امریکا کسی قیدی کو منتقل کرنے سے پہلے متعلقہ ملک میں ناروا سلوک سے متعلق دعووں کا باریک بینی سے جائزہ لے رہا ہے اور قیدیوں کو کسی ایسے ملک میں منتقل نہیں کیا جائے گا جہاں انھیں تشدد کا نشانہ بنایا جاسکتا ہے''۔

گوانتا ناموبے میں قید الجزائر سے تعلق رکھنے والے بلکاجیم بن سیاح اور جمل عمیزیان اپنے ملک منتقلی کے خلاف احتجاج کررہے ہیں جس کے پیش نظر ان کی امریکا سے واپس میں تاخیر ہورہی ہے۔واضح رہے کہ الجزائر واحد ملک ہے جس نے اپنے ان دونوں باشندوں کو قبول کرنے پر آمادگی ظاہر کی تھی۔

عمیزیان اپنی گرفتاری سےقبل آسٹریا اور کینیڈا میں رہتے رہے تھے۔انھیں سابق صدر جارج ڈبلیو بش کے دور حکومت میں 2007ء میں رہائی کے لیے کلئیر قراردیا گیا تھا۔انھوں نے امریکی انتظامیہ سے خود کو کینیڈا بھیجنے کا مطالبہ کیا ہے۔

بن سیاح کو یورپی مسلم ریاست بوسنیا سے 2002ء میں گرفتار کیا گیا تھا اور وہ خود کو وہیں بھیجنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ان کی بیوی اور بیٹیاں بوسنیا ہی میں رہ رہی ہیں۔بن سیاح کے وکیل نے امریکی محکمہ خارجہ کو لکھا ہے کہ اب ان کے موکل کی الجزائر واپسی کی صورت میں ان کی جان کے لیے خطرات ہوسکتے ہیں۔

انھوں نے لکھاہے کہ ''بن سیاح کو یقین ہے مسلم انتہا پسند ان سے ہمدردی کی توقع رکھیں گے کیونکہ وہ گوانتانامو بے میں قید رہے ہیں لیکن جب انھیں یہ پتا چلے گا کہ اب وہ (بن سیاح) ان کی حمایت نہیں کرتے تو وہ ان پر حملہ کرسکتے ہیں اور انھیں قتل بھی کرسکتے ہیں''۔

وکیل کرش نے خبردار کیا ہے کہ بن سیاح کو الجزائر بھیجنے سے وہ مستقل طور پر اپنے خاندان سے محروم ہو سکتے ہیں کیونکہ اس وقت ان کے اعزاء وپیاروں میں سے کوئی بھی اپنے آبائی وطن میں مقیم نہیں ہے اور وہ خود بھی گذشتہ بیس سال کے دوران کبھی الجزائر نہیں گئے ہیں۔انھوں نے الجزائری سفیر کو بھی لکھا ہے کہ گوانتا ناموبے سے منتقلی کے حوالے سے بن سیاح کی خواہشات کا احترام کیا جائے۔