.

''عربوں کو مغرب میں لابی کے لیے ابھی بہت فاصلہ طے کرنا ہے''

عرب دنیا میں ایسی آوازیں نہیں جو اٹھیں اور بولیں:العربیہ فورم کے شرکاء کی گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عرب دنیا کو مغربی حکومتوں میں لابی کے لیے ابھی بہت فاصلہ طے کرنا ہے کیونکہ اس خطے میں اپنے پیغام کو باہر پہنچانے کے لیے درکار صلاحیتوں وسہولتوں کا فقدان پایا جاتا ہے۔

ان خیالات کا اظہار مقررین نے العربیہ نیوز کے زیر اہتمام ''مشرق اور مغرب کے درمیان مواصلاتی خلیج'' کے موضوع پر مباحثے میں کیا ہے۔ہفتے کے روز دبئی ہونے والے اس مباحثے میں مختلف حکومتوں ،میڈیا اداروں اور تھنک ٹینکس کے نمائندے شرکت کررہے ہیں۔یہ فورم العربیہ نیوز چینل کی نشریات کے دس سال پورے ہونے پر منعقد کیا جارہا ہے۔

عالمی اقتصادی فورم میں مواصلات اور میڈیا کے سربراہ اور مینجنگ ڈائریکٹر ایڈریان مونک نے فورم کے پینل میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ''عرب دنیا کی مغرب اور خاص طور پر امریکا میں لابی نہ ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ان کے ہاں ایسی آوازیں نہیں ہیں جو اٹھیں، بولیں اور وہ کسی شمار قطار میں بھی ہوں''۔

انھوں نے کہا ہے کہ ''یہ کام لابی گروپوں پر رقوم صرف کرنے سے بھی بڑھ کر ہے۔انھوں نے کہا کہ رقوم سے دلائل کو نہیں خریدا جاسکتا ہے اور نہ اس سے سڑکوں پر لوگوں سے بحث ومباحثہ کیا جاسکتا ہے''۔

فورم کے پہلے پینل کا عنوان''مشرق اور مغرب کے درمیان مواصلاتی خلیج پاٹنا'' تھا۔اس کے ماڈریٹر العربیہ کی انگریزی ویب سائٹ کے ایڈیٹرانچیف فیصل جے عباس تھے۔انھوں نے کہا کہ ''اس مباحثے کا مقصد دراصل دنیا کے بارے میں بہتر تفہیم کو اجاگر کرنا ہے''۔

واشنگٹن میں العربیہ کے بیورو چیف ہشام ملحم نے مباحثے کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عرب نمائںدوں نے مقامی قانون سازوں اور امریکی حکومت کو اپنا ہم نوا بنانے کے لیے بنیادی سطح پر تو کوششیں کی ہیں لیکن انھیں ابھی اس میدان میں بہت سفر طے کرنا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ بعض عرب حکومتیں لابئیسٹوں پر رقوم خرچ کرنے کے باوجود ان کے بارے میں بہت کم سیاسی علم رکھتی ہیں۔انھوں نے اس ضمن میں امریکا کی نیشنل رائفل ایسوسی ایشن کی مثال دی۔انھوں نے بتایا کہ عربوں کو پہلے یکسو ہونے اور اپنی ترجیحات کے تعین کی ضرورت ہے کیونکہ وہ جب امریکا میں جاتے ہیں تو اپنے ساتھ پورے مشرق وسطیٰ کے مسائل کو لے جاتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اگر عرب اپنے ہی معاشروں میں موثر نہیں ہوں گے تو وہ پھر سمندر پار بھی موثر ثابت نہیں ہوسکیں گے۔اس لیے عربوں کو اپنی ترجیحات کے ضمن میں فعال ہونا چاہیے۔

اخبار الشرق الاوسط کے ایڈیٹر انچیف ڈاکٹر عادل الطریفی نے کہا کہ اہل عرب کے مغرب کے ساتھ تعلقات میں اسرائیلی ،عرب تنازعے پر سب سے زیادہ توجہ مرکوز کی جاتی ہے لیکن یہ واحد ایشو نہیں ہے جس کو مغرب کے ساتھ اٹھایا جانا چاہیے بلکہ شام اور یمن کے ایشوز بھی زیادہ توجہ کے متقاضی ہیں۔ڈاکٹر الطریفی نے دبئی کی ایکسپو 2020ء کی میزبانی کے لیے کامیاب مہم کو موثر لابی کی ایک شاندار مثال قراردیا۔

عرب برطانیہ مفاہمتی کونسل کے ڈائریکٹر کرس ڈائل نے فورم کے پہلے پینل میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس وقت ماضی کے مقابلے میں برطانیہ میں عرب ایشوز کے حوالے سے بہتر تفہیم پائی جاتی ہے لیکن اب بھی اس خطے کے بارے میں بہت سے غلط تصورات پائے جاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ عرب کمیونیٹیز بعض اوقات اس نظریے کی بنا پر بھی پیچھے ہٹ جاتی ہیں کہ اسرائیل کی لابی طاقتور ہے اور وہ کبھی غلطی نہیں کرتی ہے اور آپ اس کو چیلنج بھی نہیں کرسکتے لیکن یہ درست نہیں ہے۔انھوں نے اس مظہر کو سازشی تھیوری کا نام دیا۔

فورم کے دوسرے پینل کے لیے گفتگو کا عنوان ''ترجمے میں کھو گیا:کیا مغرب واقعی مشرق وسطیٰ کو سمجھتا ہے'' (لاسٹ اِن ٹرانسلیشن:ڈز دا ویسٹ رئیلی انڈرسٹینڈ دا مڈل ایسٹ) ہے۔اس پینل کی ماڈریٹر العربیہ نیوز چینل کی سینیر اینکر ریما مکتبی ہیں۔

اس پینل کے شرکاء میں لندن کی سٹی یونیورسٹی کے شعبہ صحافت کے سربراہ پروفیسر جارج براک ،سعودی اخبار''سعودی گزٹ'' کے مدیر اعلیٰ خالد المعینہ ،نیویارک /اقوام متحدہ میں العربیہ نیوز چینل کے بیورو چیف طلال الحاج اور مشرق وسطیٰ میں وسیع تجربہ کے حامل براڈکاسٹر ،لکھاری اور صحافی چارلس گلاس شامل ہیں۔