.

بنکاک میں 'عرب بہاریہ' طرز کی عوامی بغاوت، دو افراد ہلاک

وزیر اعظم یِنگ لَک کی موجودگی میں پولیس ہیڈکوارٹر پر حملہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک میں ہزاروں کی تعداد میں اپوزیشن مظاہرین نے اپنے حکومت مخالف احتجاج کو وسعت دیتے ہوئے کئی سرکاری محکموں پر قبضے کی کوشش کی، جس دوران کم از کم دو افراد ہلاک ہو گئے۔

بنکاک سے ارسال کردہ عالمی خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق بہت سے ریاستی اداروں کے گھیراؤ اور ان پر دھاوا بولنے کی کوشش کے دوران مظاہرین کی سکیورٹی فورسز کے ساتھ خون ریز جھڑپیں ہوئیں۔ اس دوران اپوزیشن کارکن ایک نشریاتی ادارے کا کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے جب کہ خاتون وزیر اعظم یِنگ لَک شیناواترا کو نیشنل پولیس ہیڈ کوارٹرز سے رخصت ہونا پڑ گیا۔

تھائی مظاہرین آج [اتوار] سے اپنی حکومت مخالف تحریک میں جو شدت لائے ہیں، اسے’’عوامی بغاوت‘‘ کے آغاز کا نام دیا جا رہا ہے۔ اتوار کو علی الصباح سے لے کر بعد دوپہر تک تھائی پولیس کو ان مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوششوں کے دوران مسلسل آنسو گیس کا استعمال کرنا پڑا۔ یہ مظاہرین پولیس پر پتھراؤ بھی کر رہے تھے۔ آج صبح سے ہی بنکاک کے کئی حصوں میں حالات اس حد تک انتشار کا شکار رہے کہ معمول کی زندگی پوری طرح مفلوج رہی۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق بنکاک کے کئی علاقوں میں گزشتہ رات ایسی جھڑپیں بھی جاری رہیں جن میں بندوقوں اور چاقوؤں کا استعمال کیا گیا۔ اس بے امنی میں کم از کم دو افراد کے ہلاک اور کم از کم 54 کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

خبر ایجنسی اے ایف پی نے لکھا ہے کہ بنکاک میں آج مظاہرین نے نیشنل پولیس ہیڈ کوارٹرز پر بھی اس وقت دھاوا بولنے کی کوشش کی، جب وزیر اعظم یِنگ لَک شیناواترا وہاں موجود تھیں۔ اس پر پولیس نے احتجاجی کارکنوں کو روکنے کے لیے آنسو گیس فائر کی جب کہ وزیر اعظم اپنی جان بچا کر وہاں سے نکلنے میں کامیاب رہیں۔

چند دیگر رپورٹوں کے مطابق اپوزیشن مظاہرین نے سرکاری نشریاتی ادارے کی عمارت پر دھاوا بول کر اس پر کنٹرول حاصل کر لیا۔ ایسوسی ایٹد پریس کے مطابق اس وقت وزیر اعظم شیناواترا اسی عمارت کے ایک حصے میں موجود تھیں کیوں کہ انہیں ملکی میڈیا کو انٹرویو دینا تھے۔ تاہم اس واقعے کے بعد خاتون سربراہ حکومت کو وہاں سے رخصت ہونا پڑ گیا۔

تھائی لینڈ میں حکومت مخالف مظاہرین گزشتہ ایک ہفتے سے یِنگ لَک شیناواترا کی حکومت کو اقتدار سے ہٹانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے اتوار یکم دسمبر کو اپنے لیے ‘‘وکٹری ڈے‘‘ کا نام دے رکھا ہے۔ تھائی اپوزیشن اس بات کے خلاف احتجاج کر رہی ہے کہ ملکی سیاست پر پچھلے قریب ایک عشرے سے شیناواترا اور ان کے خاندان کا اثر و رسوخ بہت زیادہ ہو چکا ہے۔

ان مظاہروں کی قیادت کرنے والے اپوزیشن رہنماؤں نے اپنے کارکنوں کو کل ہفتے کو ہی کہہ دیا تھا کہ اتوار یکم دسمبر کو انہیں بنکاک میں دس حکومتی عمارات، چھ ٹیلی وژن اسٹیشنوں، نیشنل پولیس ہیڈ کوارٹرز اور وزیر اعظم شیناواترا کے دفاتر پر قبضہ کرنا ہے۔ تھائی پولیس نے بتایا ہے کہ بنکاک میں ہفتے اور اتوار کی درمیانی رات آٹھ مختلف علاقوں میں قریب تیس ہزار اپوزیشن مظاہرین جمع ہو گئے تھے۔ ان میں سے تین مقامات پر مظاہرین کی طرف سے پتھراؤ کے جواب میں پولیس کو آنسو گیس کے شیل فائر کرنا پڑے۔

وزیر اعظم کے ایک مشیر نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ یِنگ لَک شیناواترا کو نیشنل پولیس ہیڈ کوارٹرز میں نارکوٹکس کنٹرول بیورو کی عمارت میں میڈیا کو انٹرویو دینا تھے مگر انہیں اس لیے وہاں سے رخصت ہونا پڑ گیا کہ مظاہرین پولیس ہیڈ کوارٹرز کی عمارت کے ارد گرد اور جزوی طور پر اس کے کمپاؤنڈ کے اندر تک بھی پہنچ گئے تھے۔