.

ایران کا ترکی کے لئے انٹلیجنس تعاون فراہمی کا اعتراف

"انقرہ اور تہران موثرعلاقائی طاقتیں بن چکے ہیں"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی میں متعین ایرانی سفیر نے اعتراف کیا ہے کہ تہران اور انقرہ کے درمیان انٹیلی جنس کے شعبے میں بھرپور تعاون جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات ماضی کی نسبت زیادہ مستحکم ہوتے جا رہے ہیں۔

اپنے ایک بیان میں انقرہ میں تہران کے سفیر علی رضا بکدیلی نے کہا کہ ایران اور ترکی خطے کی دو اہم قوتیں ہیں جو نہ صرف تیزی سے ترقی کی جانب گامزن ہیں بلکہ ان کا علاقائی اثر و رسوخ بھی بڑھ رہا ہے۔ دونوں ملک ایک دوسرے سے انٹیلی جنس کے شعبے میں معلومات کا تبادلہ بھی کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ ایرانی سفیر کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی میڈیا میں پہلے ہی اس نوعیت کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔ چند ہفتے پیشترامریکی اخبار "واشنگٹن پوسٹ" نے دعویٰ کیا تھا کہ ترکی، ایران کو اسرائیلی کے مفادات کی خاطر جاسوسی کرنے والوں کے بارے میں خفیہ معلومات فراہم کر رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق انقرہ نے دو طرفہ انٹیلی جنس تعاون کے دوران ایرانی اور اسرائیلی شہریوں پر مشتمل ایک جاسوس نیٹ ورک کا سراغ لگانے کے بعد اس کے بارے میں تہران کو معلومات فراہم کی تھیں۔

"واشنگٹن پوسٹ" کے مطابق ترک انٹیلی جنس حکام کی جانب سے تہران کو ایسے دس مشتبہ افراد کی تمام تفصیلات فراہم کی گئی تھیں جن کے مبینہ طور پراسرائیلی خفیہ اداروں کے ساتھ روابط تھے۔ ایرانی سفیر علی رضا کا کہنا ہے کہ تہران اور انقرہ کے درمیان انٹیلی جنس کے شعبے میں ماضی میں بھی تعاون جاری رہا ہے تاہم حالیہ کچھ عرصے میں اس میں مزید بہتری آئی ہے۔ مسٹرعلی رضا نے کہا کہ ایران دونوں ملکوں کے درمیان مسلک کی بنیاد پرکوئی اختلاف نہیں ہے اور نہ ہی تہران، ترکی کے سنیوں کی جاسوسی کر رہا ہے۔