.

سوڈان:باغیوں اور سرکاری سکیورٹی فورسز میں جھڑپیں

باغی جنگجوؤں کا بیسیوں سرکاری فوجیوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈان کی ریاست جنوبی کرودفان میں ایک مرتبہ پھر سرکاری سکیورٹی فورسز اور باغیوں کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں جن میں باغیوں نے متعدد سرکاری فوجیوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

جنوبی کردوفان میں سرکاری سکیورٹی فورسز کے خلاف برسرپیکار نسل پرست باغی جماعت انصاف اور مساوات تحریک (جے ای ایم) سے تعلق رکھنے والے مزاحمت کاروں نے ریاست کے قصبے ابو زباد کے جنوب میں واقع ابو دوما کے پہاڑی علاقے میں جمعہ اور ہفتے کو لڑائی میں بیسیوں سرکاری فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے اور کہا ہے کہ ان میں متعدد فوجی افسر بھی شامل ہیں۔

جے ای ایم کے ترجمان جبریل آدم بلال نے سوموار کو فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''ہم اس علاقے سے بڑی اچھی طرح واقف ہیں لیکن سرکاری فوجی اس سے آشنا نہیں ہیں۔وہ تین اطراف سے ہم پر حملے کی تیاری کررہے تھے''۔

دوسری جانب سوڈانی فوج کے ترجمان سوارمی خالد سعد نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پہاڑی علاقے میں ایک ہفتہ قبل صرف ایک ہی معمولی جھڑپ ہوئی تھی اور سرکاری فورسز ریاست کے مختلف علاقوں میں باغیوں کا پیچھا کررہے ہیں۔فوجی ترجمان نے ہلاکتوں کے حوالے سے کچھ نہیں کہا۔

جنوبی کردوفان میں نسل پرست باغیوں اور سرکاری سکیورٹی فورسز کے درمیان نومبر سے لڑائی جاری ہے اور اس میں موسم خزاں کے آغاز کے بعد سے شدت آئی ہے۔سوڈانی حکومت نے اس ریاست میں صحافیوں ،امدادی کارکنوں اور دوسرے رضاکاروں کے داخلے پر پابندی عاید کررکھی ہے جس کی وجہ سے فریقین کے دعووں کی آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں ہے۔

جے ای ایم کے جنگجوؤں نے پڑوسی ریاست شمالی کردوفان کی سرحد کے نزدیک واقع قصبے ابو زباد پر 17 نومبر کو چند گھنٹے کے لیے قبضہ کر لیا تھا۔تجزیہ کاروں کے مطابق یہ تنظیم سوڈان کے علاقے مغربی دارفور سے تعلق رکھتی ہے اور وہ جنوبی کردوفان میں پیپلز لبریشن آرمی نارتھ سے تعلق رکھنے والے باغی جنگجوؤں کی مدد کررہی ہے۔

اس ریاست میں 2011ء میں قبائلی جنگجوؤں نے خرطوم کی مرکزی حکومت کے خلاف ہتھیار اٹھائے تھے۔لیکن انھیں بیرون ملک سے حمایت حاصل نہیں ہوسکی ہے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل یہ کہہ چکی ہے کہ جنوبی کردوفان اور سوڈان کی ایک اور ریاست بلیو نیل میں جاری شورش کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔

سوڈانی صدر عمر حسن البشیر کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت مسلح گروپوں سمیت تمام دھڑوں کے ساتھ وسیع تر سیاسی مذاکرات کے لیے تیار ہے لیکن جے ای ایم کے ترجمان آدم بلال کا کہنا ہے کہ تنازعے کا کوئی سیاسی حل ممکن نہیں کیونکہ سوڈانی حکومت نے فوجی حل کی حکمت عملی اپنا رکھی ہے۔