.

صحافت میں کالی بھیڑوں کی نشاندہی تیونس کے صدر کو مہنگی پڑ گئی

حکومت مخالف میڈیا تیونسی صدر المنصف المرزوق پر سخت برہم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس کے معزول اور مفرور صدر زین العابدین بن علی کے حامی صحافیوں کو بلیک لسٹ کی جانے کی تفصیلات پرمبنی کتاب کی اشاعت کے بعد میڈیا اور ایوان صدرکے درمیان ایک نیا تنازعہ پیدا ہو گیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق تیونس کی حکمراں جماعت النہضہ الاسلامی کے ہم خیال ٹیلی ویژن نے"المتوسط" نے ایک کتاب کی اشاعت کا حوالہ دیا ہے جس میں سابق صدر زین العابدین بن علی کے سیاہ کرتوتوں کو بہترین کارناموں کے طور پر بیان کرنے اور حکومت نوازی کا مظاہرہ کرنے والے صحافیوں کی تفصیلات شائع کی گئی ہیں۔

ایوان صدر اور میڈیا کے درمیان کشیدگی اس لیے پیدا ہوئی ہے کیونکہ کتاب "بن علی کی پروپیگنڈہ مشینری" کی اشاعت کا کام ایوان صدرکے محکمہ اطلاعات و نشریات کی جانب سے کیا گیا ہے۔ گوکہ یہ کتاب ابھی مارکیٹ میں نہیں آئی ہے تاہم اس میں سابق دور میں حکومت سے مراعات حاصل کرنے والے صحافیوں کے بارے میں انکشافات ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ کتاب کے مولف نے اپنے تئیں جنوری 2011ء کے انقلاب کے ثمرات کا ذکر کیا ہے اور یہ بتایا ہے کہ زین العابدین بن علی اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے صحافت کو کس بھونڈے طریقے سے استعمال کرتے رہے ہیں۔

ٹیلی ویژن چینل "المتوسط" کے نامہ نگار صالح عطیہ نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو میں کہا کہ مذکورہ کتاب میں سابق صدر زین العابدین بن علی اور ان کی حکومت کے گن گانے والے صحافیوں اور دانشوروں کو بے نقاب کیا گیا ہے۔ اس کتاب میں صحافت کے پیشے سے وابستہ ان "قصیدہ گو افراد" کا تذکرہ ہے جو حکومتی نااہلی کے باوجود "سب اچھا ہے" کی رپورٹ دیا کرتے تھے۔

صالح عطیہ کا کہنا تھا کہ سابق صدر کے دور میں ان کی حمایت کرنے والے صحافیوں کی اکثریت آج بھی اسی پیشے سے وابستہ ہے۔ یہ صحافی آج النہضہ کی حکومت کے خلاف اپنی زبان وقلم کا استعمال کر رہے ہیں۔ ایوان صدر تنقید کی زد میں حکومت مخالف صحافی اور ابلاغی حلقوں میں بلیک لسٹ صحافیوں کی تفصیلات پر مشتمل کتاب کی اشاعت پر ایوان صدر کو کڑی تنقید کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

فرانسیسی زبان میں شائع ہونے والے جریدے "ابراس" کے چیف ایڈیٹر سفیان بن فرحات نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے صحافیوں کو بلیک لسٹ کیے جانے کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت صحافیوں اور دانشوروں کی ذاتیات سے متعلق تفصیلات افشاء کرکے ایوان صدر نے ایک نیا تنازع پیدا کر دیا ہے۔ حکومت نواز "میڈیا پرسنز" کے بارے میں انکشافات پر مبنی کتاب خود ایک اسکینڈل بن گئی ہے۔

حکومت ایسے ہتھکنڈے استعمال کرکے نہ صرف آزادی صحافت پر قدغنیں لگانا چاہتی ہے بلکہ حکومت مخالف ابلاغی حلقوں کی زبان بند کرکے ملک میں من مانی کرنا چاہتی ہے۔ حکومت مخالف صحافی کا کہنا تھا کہ متنازعہ نوعیت کی اس کتاب کی اشاعت کے بعد ایوان صدر اور ابلاغی حلقوں میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گا۔