2013ء کی "مقبول شخصیت"، امریکی گلوکارہ یا مصری جنرل سیسی؟

ٹائمز میگزین کے سروے نتائج میں چند گھنٹے رہ گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سال 2013ء اپنے اختتام کی جانب بڑھ رہا ہے۔ ذرائع ابلاغ حسب معمول رواں سال رونما ہونے والے اہم واقعات پر نظریں جمائے ہوئے ہیں۔

اسی ضمن میں امریکی جریدہ "ٹائمز" نے سال 2013 کی مقبول ترین شخصیت یا شخصیات کے حوالے سے ایک آن لائن سروے شروع کررکھا ہے۔ جریدے نے سروے کے لیے مجموعی طورپر 44 عالمی مشاہیرکا انتخاب کیا لیکن اس کے حیران کن نتائج سامنےآئے ہیں۔ گوکہ حتمی نتیجہ کل جمعرات کی صبح جاری کیا جائے گا تاہم اب تک کے نتائج کے مطابق مصرکی مسلح افواج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی اور امریکی پاپ گلوکارہ مائیلی سائروس کے درمیان کانٹے دار مقابلہ ہے۔

یوں دنیا بھر کی نظریں اس پرمرکوز ہیں کہ کل سامنے آنے والے سروے نتائج میں جنرل سیسیسنہ دو ہزار تیرہ کی "مقبول شخصیت" قرار پائیں گے یا یہ اعزاز امریکی گلوکارہ سائروس کے ماتھے کا جھومر بنے گا۔ دونوں کے درمیان مقابلہ سخت ہے۔ جنرل سیسی کو 19.5 فی صد رائے دہندگان کی حمایت حاصل ہے جب کہ ان کے بعد تین پوائنٹس کے فاصلے پر مائیلی سائروس دوسرے نمبر پر مقبول ترین شخصیت ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق تیسرے نمبر پر سال کی مقبول ترین شخصیت میں ترک وزیراعظم رجب طیب ایردوآن کا نام آ رہا ہے جبکہ رواں سال کی اہم شخصیات کی فہرست میں شامی صدر بشارالاسد 2.5 رائے دہندگان کی حمایت کے ساتھ چھٹے نمبر پر ہیں۔

رپورٹ کے مطابق جنرل عبدالفتاح السیسی کی حمایت میں ٹائمز میگزین میں تین لاکھ 10 ہزارافراد نے رائے دی ہے۔ ان کے مقابلے میں امریکی اداکارہ اکیس سالہ مائیلی سائروس کی حمایت کرنے والوں کی تعداد دو لاکھ 80 ہزار ہے۔ سائروس کی ایک خاص بات یہ ہے کہ سماجی رابطے کی ویب سائیٹس "ٹیوٹر" اور "فیس بک" پر بھی اس کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ ٹیوٹرپر اس کے فالورز کی تعداد 15 ملین اور آٹھ لاکھ ہے جب کہ فیس بک پر اس کے صفحے کو 34 ملین پرستاروں نے "لائیک" کر رکھا ہے۔

ٹائمز میگزین کے زیر اہتمام کیے جانے والے اس سروے کا مقصد قارئین کو تفریح اورمعلومات کے سوا کچھ نہیں تاہم اس کے ذریعے رائے عامہ کی طبعی میلان کا اندازہ لگانا آسان ہو جاتا ہے۔ اسی سروے میں ایرانی صدر ڈاکٹر حسن روحانی صرف ایک فی صد حمایت کرپائے ہیں۔ امریکی صدر ان سے بھی پیچھے ہیں جن کی حمایت میں صرف اعشاریہ پانچ فی صد افراد نے رائے دی ہے۔ مسلم دنیا میں تیسرے نمبر پر ترک وزیراعظم رجب طیب ایردوآن ہیں۔ ٹائمز میگزین کی جانب سے مصر کے معزول صدر ڈاکٹر محمد مرسی کا نام بھی شامل کر رکھا تھا لیکن عوامی حمایت کے گراف میں وہ کسی شمار قطار میں نہیں ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں