.

اسرائیل کی سکیورٹی اولین ترجیح ہے: جان کیری

6 بڑی طاقتوں کے ساتھ سمجھوتے کے باوجود ایران پر اہم پابندیاں برقرار رہیں گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے ایک مرتبہ پھر واضح کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جوہری تنازعے پر مذاکرات کے عمل میں اسرائیل کی سکیورٹی اولین ترجیح ہے۔

انھوں نے یہ بات مقبوضہ بیت المقدس میں جمعرات کو اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے ساتھ مذاکرات کے بعد مشترکہ نیوز کانفرنس میں کہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ''میں اس امر پر زیادہ زور نہیں دے سکتا کہ ان مذاکرات میں اسرائیل کی سکیورٹی ہمارے ایجنڈے میں سرفہرست ہے''۔

انھوں نے کہا کہ ''امریکا ایران کے جوہری پروگرام کے ہتھیار سازی کے امکان کے خاتمے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا''۔ اس سے پہلے جان کیری نے اسرائیلی وزیراعظم سے ملاقات میں انھیں یقین دلایا کہ ایران پر اس کے عالمی طاقتوں کے ساتھ عبوری جوہری سمجھوتے کے باوجود اہم پابندیاں برقرار رہیں گی۔ نیتن یاہو نے مسٹر جان کیری سے گفتگو میں کہا کہ آیندہ ایران پر پابندیوں کے خاتمے کو روکنے کے لیے اقدامات کیے جانے چاہئیں۔

ایران نے گذشتہ ماہ جنیوا میں چھے بڑی طاقتوں کے ساتھ مذاکرات میں اپنے جوہری پروگرام کو رول بیک کرنے سے اتفاق کیا تھا۔اس کے بعد اس پر عاید بعض عالمی پابندیوں میں نرمی کی گئی ہے لیکن امریکی وزیرخارجہ نے واضح کیا ہے کہ ''ایران کی تیل کی برآمدات اور بنک کاری نظام پر پابندیاں بدستور برقرار رہیں گی اور ہم محکمہ خزانہ اور دوسری امریکی ایجنسیوں کے ذریعے ایران پر دباؤ برقرار رکھیں گے''۔

امریکی وزیرخارجہ نے ایران کے ساتھ سمجھوتے کے بعد اسرائیل سے پیدا ہونے والی کشیدگی کے خاتمے کے لیے یہ دورہ کیا ہے۔ نیتن یاہو نے امریکا سمیت چھے بڑی طاقتوں کی ایران کے ساتھ ڈیل کی سخت الفاظ میں مذمت کی تھی اور اس کو ایک تاریخی غلطی قرار دیا تھا۔

جان کیری بدھ کو اسرائیل پہنچے تھے۔ ان کے دورے کا دوسرا بڑا مقصد صہیونی ریاست اور فلسطینیوں کے درمیان امریکا کی ثالثی بلکہ نگرانی میں جاری امن مذاکرات کا جائزہ لینا ہے لیکن جولائی سے جاری ان مذاکرات میں اب تک کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔