.

امریکا اسلام پسند شامی باغی گروپوں سے براہ راست رابطے کا خواہاں

مقصد شامی اپوزیشن کا موقف سمجھنا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی انتظامیہ کے سرکردہ عہدیداروں نے دعویٰ کیا ہے کہ شامی باغیوں کا موقف سمجھنے کے لیے واشنگٹن نے شامی اپوزیشن کے کئی دھڑوں سے براہ راست رابطے شروع کردیے ہیں، تاہم ان گروپوں میں القاعدہ سے وابستہ تنظیمیں شامل نہیں ہیں۔

امریکی مسلح افواج کے سربراہ جنرل مارٹن ڈمپسی نے صحافیوں کو بتایا کہ ان کا ملک اسلام پسند شامی باغیوں سے میل جول بڑھانے اور ان کے موقف کوسمجھنے کی اہمیت سے بخوبی آگاہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ واشنگٹن کی جانب سے شامی باغی تنظیموں کے ساتھ باہمی اعتماد سازی اور موقف کوسمجھنے کے لیے رابطے بڑھا دیے ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ واشنگٹن اور شام کے متعدل اسلام پسند گروپوں کے درمیان متعدد مواقع پر براہ راست بات چیت بھی ہوٓئی ہے۔ تاہم ان میں القاعدہ سے قربت رکھنے والے یا براہ راست القاعدہ کی کمان میں لڑنے والے گروپ شامل نہیں ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں امریکی فوج کے سربراہ کا کہنا تھا کہ واشنگٹن کے لیے شامی باغیوں کا موقف سمجھنا ضروری ہے۔ ہمیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ ان لوگوں کا سیاسی نقطہ نظرکیا ہے؟ آیا وہ دوسروں کو برداشت کرتے ہیں یا بنیاد پرستی پر قائم ہیں۔ ان میں سے کون کون سے ایسے گروپ ہیں جنہیں عالمی سطح پراعتدال پسند کے طور پر قبول کیا جا سکتا ہے۔

درایں اثناء امریکی دفتر خارجہ کی ترجمان ماری ہاروف نے بھی حکومت اور شامی باغیوں کے درمیان رابطوں کی تصدیق کی۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ واشنگٹن شامی اپوزیشن کے اسلام پسند گروپوں سے رابطوں کی کوشش کر رہا ہے۔ ان رابطوں کا مقصد شامی تنازعہ کے حل کے لیے اتفاق رائے پیدا کرنا ہے۔

مسز ہارف کا کہنا تھا کہ ان کا ملک القاعدہ سے وابستہ النصرہ فرنٹ اور اس نوعیت کے دیگر گروپوں سے رابطہ نہیں کرے گا کیونکہ امریکا نے ان تنظیموں کو دہشت گرد گروپوں میں شامل کر رکھا ہے۔

انہوں نے کہا کہ "ہم شامی اپوزیشن کے تمام نمائندہ سیاسی اور فوجی دھڑوں سے کھلے دل سے رابطوں کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان میں اسلام پسند گروپ بھی شامل ہیں لیکن دہشت گردوں سے کوئی بات چیت نہیں ہوگی"۔

امریکا شامی باغیوں کو دوسری جنیوا کانفرنس میں شرکت پر آمادہ کرنے کے لیے بھی کوشاں ہے۔ وزارت خارجہ کی ترجمان نے بھی اپنے بیان میں اس جانب اشارہ کیا۔ ان کا کہنا تھاکہ ہم شامی تنازع کے سیاسی حل کے لیے اپوزیشن کے درمیان ہم آہنگی مفاہمت پیدا کرنا چاہتے ہیں جس کے لیے رابطوں میں تیزی لائی جا رہی ہے۔