.

تیونس: پولیس کی توہین کے جرم میں گلوکار کو چار ماہ قید کی سزا

وکیل کا سزا کے خلاف اپیل دائر کرنے کا اعلان، موکل کو جیل میں نقصان پہنچنے کا اندیشہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس کی ایک عدالت نے ایک نوجوان گلوکار کو اپنے گانوں میں پولیس کی توہین کے الزام میں قصوروار قرار دے کر چار ماہ قید کی سزا سنائی ہے۔

گلوکار علاء یعقوبی نے ،جو ولید ایل 15 کے نام سے معروف ہیں،جمعرات کو عدالت میں خود کو حکام کے حوالے کردیا ہے۔ عدالت نے انھیں، غیر شائستہ کردار، نقض امن عامہ اور سرکاری ملازمین کے خلاف توہین آمیز گانے گانے کے الزام میں قصوروار دے کر چار ماہ کے لیے سیدھا جیل میں بند کرنے کا حکم دیا ہے۔

اس نوجوان گلوکار کے وکیل غازی مرابط نے عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کا اعلان کیا ہے اور اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ ان کے مؤکل ولد ایل 15 کو جیل میں نقصان پہنچایا جاسکتا ہے۔

ولد اور ان کے ساتھی گلوکار کلے بی بی جے کے خلاف تیونس کے مشرق میں واقع قصبے حمامت میں ایک عدالت میں مقدمے کی سماعت ہوئی ہے۔ اس سے پہلے اگست میں ان کے خلاف اسی الزام میں مقدمہ چلایا گیا تھا اور ولد کو ان کی عدم حاضری میں اکیس ماہ جیل کی سزا سنائی گئی تھی لیکن انھوں نے اس سزا کے خلاف اپیل دائر کردی تھی جس پر ان کے خلاف دوبارہ مقدمہ چلایا گیا ہے۔

کلے بی بی جے کے خلاف اس کے بعد دومرتبہ اس مقدمے کی سماعت ہوچکی ہے اور انھیں عدالت نے اکتوبر میں بری کردیا تھا لیکن ولد ایل 15 تب سے مفرور تھے اور انھوں نے آج خود کو حکام کے حوالے کیا ہے۔

اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ ''انقلاب اظہار رائے کی آزادی کے نام پر برپا ہوا تھا''۔ وہ سابق مطلق العنان صدر زین العابدین بن علی کے خلاف جنوری 2011ء میں برپاشدہ عوامی انقلاب کا حوالہ دے رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ''میں ساری زندگی مفرور رہ کر نہیں گزار سکتا۔ اس لیے میں نے خود کو حکام کے حوالے کیا ہے لیکن میں جیل جانے کو بھی تیار نہیں ہوں''۔

ان دونوں گلوکاروں کے خلاف حمامت میں ایک کنسرٹ کے دوران اکٹھے فن کا مظاہرہ کرنے کے الزام میں مقدمہ چلایا گیا ہے۔ اس کنسرٹ میں گائے گئے گانوں میں انھوں نے مبینہ طور پر تیونسی پولیس کا مضحکہ اڑایا تھا اور اس الزام میں ان کے خلاف مقدمہ دائر کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ تیونس میں عرب بہاریہ انقلاب کے بعد منعقدہ پہلے عام انتخابات کے نتیجے میں اسلامی جماعت النہضہ کی قیادت میں مخلوط حکومت قائم ہوئی تھی۔ اب اس کے دور میں عرب دنیا کے سب سے زیادہ روشن خیال سمجھے جانے والے اس ملک میں آزاد روش کا مظاہرہ کرنے والے موسیقاروں اور صحافیوں کے خلاف مختلف الزامات میں مقدمات چلائے جارہے ہیں لیکن انسانی حقوق کی تنظیموں نے ایسے مقدمات کی مذمت کی ہے اور انھیں جمہوری آزادیوں کے منافی قرار دیا ہے۔