.

دوران اسیری ساتھی کارکنوں کی دعائیں میرا قیمتی اثاثہ تھیں: بکر

رہائی کے بعد بکر کی العربیہ اردو کے ایڈیٹر سے ٹیلفونک گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلپائن میں اغوا کاروں کے چنگل سے ڈیڑھ سال سے زیادہ مدت بعد رہائی پانے والے العربیہ کے پاکستان میں بیورو چیف بکر عطیانی کی رہائی کے بعد پہلی ویڈیو منظر عام پر آئی ہے۔

یہ ویڈیو فلپائن کے نجی ٹی وی "جی ایم اے" نیوز چینل نے اپنے خصوصی نشریئے میں میں بکر عطیانی کے رہائی سے متعلق تفصیلی خبر کے ساتھ چلائی ہے۔

ویڈیو میں بکر عطیانی انتہائی کمزور دکھائی دے رہے ہیں۔ وہ بااعتماد لہجے میں حکام کو دوران اسیری خود سے ہونے والے سلوک اور ڈاکٹروں کو اپنی صحت کے بارے میں تفصیلات فراہم کر رہے ہیں۔ دوران اسیری نامساعد حالات اور مناسب خوراک اور علاج کی سہولت نہ ملنے کی وجہ سے بکر عطیانی کا وزن بہت زیادہ گر چکا ہے، تاہم ان کی اردن میں اہل خانہ سے ملاقات سے پہلے ان کا فلپائن میں ہی طبی معائنہ اور علاج جاری ہے، وہ جلد عمان کے لئے روانہ ہو جائیں گے۔ بکر عطیانی کے رہائی اور حکام سے انہیں وصول کرنے کے لئے 'العربیہ' کے ایک سینئر عہدیدار منیلا میں موجود ہیں جو رہائی پانے والے بکر عطیانی کی دیکھ بھال اور ان کے اہل خانہ سے ان کا مسلسل رابطہ کرائے ہوئے ہیں۔

درایں اثنا العربیہ اردو کے ایڈیٹر مںصور جعفر سے اپنی رہائی کے بعد منیلا سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے ان تمام ساتھی کارکنوں اور دوستوں کا شکریہ ادا کیا۔ بکر عطیانی کے بقول تمام خیر خواہوں کی دعائیں اور نیک تمنائیں دوران اسیری میں ان کا بہت بڑا سہارا تھیں۔ انہوں نے اپنا حوصلہ بلند رکھا، انہیں یقین تھا کہ دہشت گردوں کی قید سے ان کی رہائی ایک دن ضرور ممکن ہو گی۔ انہوں نے جلد تمام کارکن ساتھیوں اور دوست احباب سے ملنے کی خواہش کا بھی اظہار کیا۔

منصور جعفر نے بکر عطیانی کے دوران اسیری حوصلہ بلند رکھنے پر انہیں خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے اپنے سینئر ساتھی کے جلد صحتیابی اور دوبارہ پیشہ وارنہ زندگی میں واپسی کے لئے دعا اور خواہش کا اظہار کیا۔ بکر عطیانی نے منصور جعفر کو پاکستان میں اپنے سابقہ ساتھی عملے اور موجودہ ٹیم ممبران کو خصوصی سلام بھی پہنچانے کی ہدایت کی۔