.

لیبی پارلیمنٹ کا اسلامی شریعت کے منافی قانون سازی نہ کرنے کا عزم

دستور ساز کمیشن اس کی پابندی کا مجاز نہیں ہو گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کی پارلیمنٹ [جنرل نیشنل کانگریس] نے ایک قرارداد کی منظوری دی ہے جس میں قرار دیا ہے کہ پارلیمنٹ اسلامی شریعت کے مطابق قانون سازی کی پابند ہو گی اور قرآن وسنت کے منافی قانون سازی نہیں کی جائے گی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق لیبی پارلیمنٹ کی جانب سے کثرت رائے سے اسلامی شریعت کے منافی آئین سازی سے گریز کے اعلان کے باوجود اراکین پارلیمان کا کہنا ہے کہ اس قانون کا اطلاق مستقبل قریب میں منتخب ہونے والی قانون ساز کمیٹی پر نہیں ہو گا۔ اس قانون ساز کمیٹی کے چناؤ کی تیاریاں جاری ہیں، جس میں اراکین پارلیمان، ماہرین قانون اور مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کو شامل کیا جائے گا۔ یہ کمیٹی لیبیا میں ما بعد انقلاب نئے دستورکی تیاری کا کام کرے گی۔

پارلیمنٹ کے ترجمان عمر حمیدان نے کا کہنا ہے پارلیمنٹ کی جانب سے جاری کردہ بیان علامتی نوعیت کا ہے۔ قانون ساز کمیٹی حتیٰ کہ خود پارلیمنٹ پر بھی اس کی پابندی بھی لازم نہیں ہوگی۔

لیبی پارلیمنٹ کی جانب سے جاری حالیہ قرارداد کے حوالے سے سوشل میڈیا پر بھی تندو تیز بحث جاری ہے۔ سماجی حلقوں میں جہاں ملک میں اسلامی شریعت کے مطابق قانون سازی کی کھلی حمایت موجود ہے وہیں اس کی مخالفت کرنے والوں کی بھی کمی نہیں ہے۔ اسلامی شریعت پر معترض حلقوں کا خیال ہے پارلیمنٹ میں صرف قرآن وسنت کے مطابق قانون سازی سے ملک میں موجود کچھ طبقات کے حقوق متاثر بھی ہو سکتے ہیں۔ لہٰذا پارلیمنٹ کو آئین سازی کے معاملے میں توازن قائم رکھنا چاہیے۔

سماجی میڈیا پرایک گروپ اسے موجودہ عبوری حکومت کی سیاسی چالاکی سے تعبیر کر رہا ہے۔ اس تیسرے طبقے کا کہنا ہے کہ حکومت ملک کو درپیش امن وامان اور خراب معاشی مسائل سے قوم کی توجہ ہٹانے کے لیے اس طرح کے غیر ضروری اعلانات کیے جا رہی ہے۔

لیبی پارلیمنٹ کی جانب سے ملک میں قرآن وسنت کے مطابق آئین سازی کے اعلان کے بعد ملک کے اسلام پسند حلقوں میں خوشی کی لہر بھی دوڑ گئی ہے۔ لیبیا کی سخت گیرسلفی مسلک کی نمائندہ جماعت انصار الشریعہ کے ایک مرکزی رہ نما محمد الزھاوی کا کہنا ہے وہ ملک میں کتاب اللہ کے سوا کوئی دوسرا قانون قبول نہیں کریں گے۔