.

غزہ بحران کے بعد پہلے اسرائیلی وفد کی ترکی آمد

اسرائیلی وزیر ماحولیات کی اقوام متحدہ کے زیر اہتمام آلودگی سے متعلق کانفرنس میں شرکت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل کے وزیر ماحولیات عامر پرتز جمعرات کو ترکی کے شہر استنبول پہنچے ہیں جہاں وہ اقوام متحدہ کے زیر اہتمام بحر متوسطہ میں آلودگی سے متعلق ہونے والی کانفرنس میں شرکت کررہے ہیں۔

31مئی 2010ء کو غزہ کی جانب جانے والے امدادی بحری جہازوں پر مشتمل فریڈم فلوٹیلا پر اسرائیلی فوج کے کمانڈوز کے حملے کے بعد کسی بڑے صہیونی عہدے دار کا ترکی کا یہ پہلا دورہ ہے۔ اسرائیلی کمانڈوز کے اس حملے میں نو ترک رضاکار جاں بحق ہوگئے تھے اور اس واقعے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سفارتی اور سیاسی تعلقات منقطع ہوگئے تھے۔

معاہدۂ شمالی اوقیانوس کی تنظیم نیٹو کے رکن ملک ترکی نے اس واقعہ پر اسرائیل سے معافی اور جاں بحق رضاکاروں کے لواحقین کو معاوضہ دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ مارچ میں امریکی صدر براک اوباما کی ثالثی کی کوششوں کے نتیجے میں صہیونی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے ترکی سے اس واقعہ پر معافی مانگی تھی۔

اس کے بعد ترکی اور اسرائیل نے اپریل اور مئی میں معمول کے دوطرفہ سفارتی تعقات بحال کرنے کے لیے مذاکرات کیے تھے۔ ان میں ترکی نے متاثرہ خاندانوں کو معاوضہ دلانے کے لیے اپنی شرائط پیش کی تھیں اور دونوں ممالک کے حکام نے ان پر غور کیا تھا۔

تب ترک حکام نے یہ اطلاع دی تھی کہ فریقین کے درمیان معاوضے کے تنازعے کو طے کرنے کے لیے اصولی طور پر سمجھوتا طے پا گیا تھا لیکن اس کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔

ترکی نے اسرائیل سے ہر متاثرہ خاندان کو دس لاکھ ڈالرز (قریباً 8 لاکھ یورو) معاوضے کے طور پر دینے کا مطالبہ کیا تھا لیکن ترک میڈیا کی رپورٹس کے مطابق اسرائیل یہ بھاری رقم دینے کو تیار نہیں ہے۔