.

الجزائر: القاعدہ کا سرکردہ لیڈر چار ساتھیوں سمیت ہلاک

فوجی ہیلی کاپٹروں کی جنوبی صحرائی علاقے میں دو گاڑیوں پر بمباری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

الجزائری فوج نے ملک کے جنوب میں واقع صحرائی علاقے میں ہیلی کاپٹروں سے کارروائی کے دوران القاعدہ کے ایک سرکردہ لیڈر کو اس کے چار ساتھیوں سمیت ہلاک کردیا ہے۔

ایک الجزائری عہدے دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ القاعدہ کے لیڈر خلیل ولد عداح صحرائی صوبے تمن راست میں اپنے ساتھیوں کے دو ڈبل کیبن گاڑیوں پر سفر کر رہے تھے۔ اس دوران الجزائری فوج کے ہیلی کاپٹروں نے ان پر حملہ کر دیا۔

الجزائر کے ایک عربی روزنامے 'الخبر' کی رپورٹ کے مطابق القاعدہ کے ان جنگجوؤں پر بدھ کو صوبائی دارالحکومت عین صلاح سے شمال میں حملہ کیا گیا تھا۔ وہ اس وقت مالی کے شمالی علاقے کی جانب سے آرہے تھے اور شمالی افریقہ میں القاعدہ کی قیادت کے ساتھ ایک اجلاس میں شرکت کے سلسلہ میں جا رہے تھے۔

خلیل ولد عداح کے بارے میں یہ بات واضح نہیں کہ ان کا شمالی افریقہ میں بر سر پیکار تنظیم میں کیا مقام تھا۔ 'الخبر' نے انھیں موریتانوی شہری قرار دیا ہے اور لکھا ہے کہ وہ القاعدہ میں تیسرے نمبر پر تھے۔ البتہ اس تنظیم کے معاملات سے آگاہ لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ ممکنہ طور پر تنظیم کے علاقائی لیڈر تھے۔

اس گروپ کے امور کے ماہر ژاں پال رولون کے مطابق صحارا میں القاعدہ کی شاخ یحییٰ ابوالحمام کی قیادت میں بروئے کار ہے۔ وہ الجزائری ہیں اور خلیل ولد عداح ان کے سب سے قابل اعتماد کمانڈروں میں سے تھے۔

شمالی افریقہ میں القاعدہ کی شاخ الجزائر میں 1990ء کے عشرے میں حکومت کے خلاف بر سر پیکار راسخ العقیدہ اسلامی گروپوں کے بطن سے معرض وجود میں آئی تھی۔ اس کے بعد سے آج تک اس کی قیادت کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ الجزائر کے شمال میں واقع پہاڑی علاقے قبائلی میں رہ رہی ہے۔

اسی گروپ کے وابستگان نے 2012ء میں شمالی مالی میں طورق باغیوں کے ساتھ مل کر اپنی حکومت قائم کر لی تھی لیکن اس سال کے اوائل میں فرانسیسی فوجوں نے انھیں مالی کے شمالی شہروں اور قصبوں سے نکال باہر کیا تھا اور انھوں نے افریقی اتحادیوں کے ساتھ مل کر شمالی مالی میں حکومت کی دوبارہ عمل داری قائم کر دی ہے۔ القاعدہ کے جنگجو اب شمالی پہاڑی علاقوں میں پناہ گزین ہوچکے ہیں اور وہاں سے اپنی کارروائیاں کرتے رہتے ہیں۔